Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • پاکستان معدنی شعبے کو ترقی دینے کے نئے مرحلے میں داخل اینسٹیٹیوت آف کاسٹک مینجمنٹ الاونٹس آف پاکستان
    • پاکستان اور جرمنی کے درمیان اقتصادی تعاون سرمایہ کاری اور پارلیمانی روابط بڑھانے پر زور
    • پشاور دیر کالونی سانحہ، نجی تعلیمی اداروں کی انسپکشن اور جانچ پڑتال کا حکم
    • گلی قاضی عبدالباری والی میںغیر قانونی جمپ عوام کیلئیسردرد بن گئے
    • حفاظتی ٹیکہ جات کے مضبوط نظام کی تشکیل انسدادِ پولیو کی کوششوں کو مزید موثر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے:عائشہ رضا فاروق
    • 26 نومبر احتجاج پر تھانہ صادق آباد مقدمہ میں نامزد علیمہ خانم کیخلاف مقدمے کا فیصلہ ایک بار پھر موخر
    • اسلام آباد:چیئرمین سینٹ سید یوسف رضا گیلانی’ وفاقی وزرا اور پاکستان میں جرمنی کی سفیر انالیپل و دیگر جرمن یوم اتحاد کا کیک کاٹ رہے ہیں۔
    • گلیانہ موڑ کے قریب مسلح ڈاکوں نے شہری سے گن پوائنٹ پر 80ہزار لوٹ لیے
    • اسلام آباد کی قدیم اخبار مارکیٹ سیل، شہر بھر میں اخبارات کی ترسیل معطل
    • امیر مقام کا پشاور میں نجی سکول کے جائے حادثے کا دورہ’ معاوضہ دوگنا کرنے اور سرکاری سکول تعمیر کرنیکا اعلان
    • چیئرمینسی ڈی اے جاری ترقیاتی کاموں کی تازہ ترین پیش رفت کا جائزہ لیا
    • اسحاق ڈار کا ترکیہ میں بارشوں کے باعث سیلاب سے قیمتی جانوں کے ضیاع ‘تباہی پر دکھ اور افسوس کا اظہار
    • فتح جنگ کی گلیوں میں بنے غیر قانونی جمپ عوام کیلئے وبال جان بن چکے ہیں ۔
    • پی ٹی آئی ر ہنما کیخلاف درج مقدمات کی سماعت کسی کارروائی کے بغیر ملتوی
    • CDAکی اسلام آباد کو جدید دارالحکومت بنانے کیلئے کاموں میں تیزی
    • رضوان سعید شیخکستان پویلین کے دورے کے دوران گفتگو کر رہے ہیں۔
    • وفاقی وزیراحد خان چیمہ 2027کیلئے عالمی بینک گروپ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے بورڈز آف گورنرز کے چیئرمین نامزد
    • مشرقِ وسطی میں سپلائی کے خدشات برقرار تیل کی قیمتوں میں ہفتہ وار اضافے کا امکان
    • فیصل ہلز انتظامیہ تشدد معاملہ، مقدمہ درج نہ کئے جانے کیخلاف احتجاج کا فیصلہ
    • بنکاک: وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ ورلڈ بینک کے صدر اجے بانگا سے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف اجلاس میں شریک ہیں۔
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    پاکستان معدنی شعبے کو ترقی دینے کے نئے مرحلے میں داخل اینسٹیٹیوت آف کاسٹک مینجمنٹ الاونٹس آف پاکستان

    By Khabrain Newsاکتوبر 17, 2026
    Share Facebook Twitter Email WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی )پاکستان اپنے معدنی شعبے کو ترقی دینے کے ایک نئے مرحلے میں
    داخل ہو رہا ہے۔ دنیا میں تانبے، سونے، کرومائٹ، لیتھیم اور نایاب معدنیات کی طلب بڑھ رہی ہے، جس سے پاکستان کے لیے سرمایہ کاری، برآمدات اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں وسیع معدنی ذخائر موجود ہیں اور ملک کی جغرافیائی حیثیت اسے وسیع ٹی ٹھیان میٹالوجینک بیلٹ کا حصہ بناتی ہے، جو دنیا کے اہم تانبے اور سونے کے خطوں میں شمار ہوتا ہے۔ پاکستان میں 92 معلوم معدنیات موجود ہیں، جن میں سے 52 معدنیات تجارتی بنیادوں پر نکالی جا رہی ہیں۔انسٹی ٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکانٹنٹس آف پاکستان(ICMAP) کے مطابق پاکستان کے معدنی ذخائر کا تخمینہ تقریبا 8 ٹریلین ڈالر ہے، جو تقریبا 6 لاکھ مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ وسیع معدنی وسائل ملک کے کان کنی کے شعبے میں موجود غیر معمولی معاشی استعداد کو اجاگر کرتے ہیں۔ آئی سی ایم اے کے مطابق پاکستان کے کان کنی کے شعبے کا ملکی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) میں حصہ 3 فیصد سے بھی کم رہا ہے، جو اس شعبے کی اصل صلاحیت کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ ادارے کے اندازے کے مطابق بہتر طرزِ حکمرانی اور مثر سکیورٹی انتظامات کے نتیجے میں پاکستان کی سالانہ معدنی برآمدات تقریبا 3 ارب ڈالر سے بڑھ کر 8 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں، جبکہ ملکی اقتصادی شرحِ نمو تقریبا 3 فیصد سے بڑھ کر 6 فیصد تک جا سکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے پاکستان کو جدید ٹیکنالوجی، بہتر انفراسٹرکچر، سرمایہ کاری، معدنی تحقیق اور عالمی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کی ضرورت ہے۔*ریکو ڈک کاپر اینڈ گولڈ پراجیکٹ*بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ریکو ڈک دنیا کے سب سے بڑے تانبے اور سونے کے ذخائر میں شمار ہوتا ہے۔ریکو ڈک منصوبے میں بیرک مائننگ کا 50 فیصد، حکومتِ بلوچستان کا 25 فیصد جبکہ تین وفاقی سرکاری اداروں) او جی ڈی سی، پی پی ایل، جی ایچ پی ایل(کا مجموعی حصہ 25 فیصد ہے۔ فروری 2025 میں بیرک نے ریکو ڈک منصوبے کے لیے تازہ ترین فیزیبلٹی سٹڈی مکمل ہونے کا اعلان کیا۔ ریکو ڈک پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے والا منصوبہ بننے جا رہا ہے، جس سے بلوچستان کی معیشت پر بھی دور رس اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔تازہ ترین فیزیبلٹی اسٹڈی کے مطابق ریکو ڈک منصوبے کی متوقع مدتِ کان کنی 37 سال ہے، جبکہ مجموعی سرمایہ کاری کا تخمینہ 8.83 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ منصوبہ دو مراحل میں طے ہوگا، جس کے پہلے مرحلے پر تقریبا 5.6 سے 6 ارب ڈالر خرچ ہوں گے۔ منصوبے سے پہلی پیداوار 2028 کے اختتام تک متوقع ہے۔پہلے مرحلے میں سالانہ 45 ملین ٹن خام معدنی مواد پراسیس کیا جائے گا، جس سے تقریبا 2 لاکھ 40 ہزار ٹن تانبا اور 2 لاکھ 97 ہزار اونس سونا سالانہ پیدا ہونے کی توقع ہے۔منصوبے کے دوسرے مرحلے کا آغاز 2034 میں متوقع ہے، جس کے بعد پراسیسنگ کی صلاحیت دگنی ہو کر سالانہ 90 ملین ٹن ہو جائے گی۔ دوسرے مرحلے کے ابتدائی 10 برسوں کے دوران اوسط سالانہ پیداوار تقریبا 4 لاکھ 60 ہزار ٹن تانبا اور 5 لاکھ 20 ہزار اونس سونا رہنے کی توقع ہے۔ فیزیبلٹی اسٹڈی کے مطابق ریکو ڈک میں تقریبا 3 ارب ٹن کے ممکنہ معدنی ذخائر موجود ہیں، جن میں اندازا 1 کروڑ 50 لاکھ ٹن تانبا اور 2 کروڑ 60 لاکھ اونس سونا شامل ہے۔بیرک کے اندازے کے مطابق منصوبہ اپنی پوری مدتِ کان کنی کے دوران تقریبا 90 ارب ڈالر آپریٹنگ کیش فلو اور 70 ارب ڈالر فری کیش فلو پیدا کر سکتا ہے۔ ریکو ڈک بلوچستان میں سب سے بڑا غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری کا منصوبہ اور پاکستان کے بڑے سرمایہ کاری منصوبوں میں سے ایک ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے ریکو ڈک کے لیے 2.6 ارب ڈالر سے زائد کا مالیاتی پیکیج ترتیب دیا ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک نے اگست 2025 میں 410 ملین ڈالر کی منظوری دی، جس میں 300 ملین ڈالر قرض اور بلوچستان کے حصص کے لیے 110 ملین ڈالر کی ضمانت شامل ہے۔انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (IFC) اور انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ایسوسی ایشن (IDA) نے جون 2025 میں 700 ملین ڈالر کے قرض کی منظوری دی۔ جبکہ امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک نے دسمبر 2025 میں 1.25 ارب ڈالر کی منظوری دی۔ امریکی حکام کے مطابق اس اقدام سے امریکی کان کنی کے آلات کی برآمدات میں 2 ارب ڈالر تک کا اضافہ ممکن ہے، جبکہ دونوں ممالک میں تقریبا 13,500 ملازمتوں کو معاونت مل سکتی ہے۔ منصوبے کے فعال ہونے کے بعد پہلے سال کی برآمدات سے تقریبا 2.8 ارب ڈالر کی آمدنی متوقع ہے۔*عالمی طلب، پاکستان کا مقامی فائدہ*صنعتی اندازوں کے مطابق بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب اور معیشت کی برقی منتقلی کے باعث عالمی سطح پر تانبے کی طلب 2035 تک 24 فیصد بڑھ کر سالانہ 42.7 ملین ٹن تک پہنچنے کی توقع ہے۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (IEA) کے مطابق مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ڈیٹا سینٹرز میں بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب اس رجحان کو مزید تیز کرے گی۔ یورپی یونین اور امریکا کی جانب سے نایاب زمینی عناصر کی سپلائی چینز کو وسیع بنانے کی کوششوں نے نئے اور قابلِ اعتماد معدنی ذرائع کی اہمیت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔پاکستان میں کان کنی کی تاریخ ریکو ڈک سے بھی پرانی ہے۔ چینی شراکت داری سے تیار کیا جانے والا سیندک کاپر گولڈ پراجیکٹ بلوچستان میں 1950 کی دہائی میں کیے گئے فضائی سروے اور 1960 کی دہائی میں جیولوجیکل سروے آف پاکستان کی جانب سے کی جانے والی معدنی تلاش تک پھیلی ہوئی تاریخ رکھتا ہے۔ 8 ستمبر 2025 کو پاکستان کی فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (FWO) اور امریکی ریاست میسوری میں قائم یو ایس اسٹریٹجک میٹلز(USSM)کے درمیان اہم معدنیات، جن میں نایاب زمینی عناصر بھی شامل ہیں، کی ترقی و پراسیسنگ اور لاجسٹکس سروسز کے حوالے سے دو مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ اس معاہدے کا مقصد دفاع، ایرو اسپیس اور ٹیکنالوجی کی صنعتوں کے لیے ضروری مختلف اہم معدنیات کے شعبے میں تعاون کا فریم ورک قائم کرنا ہے۔ وزیراعظم آفس کے مطابق اس شراکت داری کے تحت پاکستان میں دستیاب معدنیات، جن میں اینٹی منی، تانبا، سونا، ٹنگسٹن اور نایاب زمینی عناصر شامل ہیں، کی برآمد فوری طور پر شروع کی جائے گی۔ یہ تعاون مستقبل میں پاکستان میں یو ایس اسٹریٹجک میٹلزکی ملکیتی اور جدید کثیر دھاتی ریفائنری کے قیام کی بنیاد فراہم کرے گا۔ ریفائنری میں نیم تیار اور تیار مصنوعات تیار کی جائیں گی، جن کا مقصد امریکی مارکیٹ میں تیزی سے بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنا ہوگا۔ اس معاہدے کے پہلے مرحلے میں پاکستان کے اہم معدنیات کے شعبے میں تقریبا 500 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔مفاہمتی یادداشت کے اگلے مراحل میں پاکستان کے وسیع معدنی وسائل کی مکمل صلاحیت کا جائزہ لینے کے لیے خصوصی ٹیموں کی تشکیل، فوری برآمد کے لیے اہم معدنیات کی نشاندہی اور تلاش، کان کنی اور پراسیسنگ کے شعبوں میں طویل مدتی شراکت داری کے لیے بنیاد قائم کرنا شامل ہے۔ اس تعاون میں پائیداری، منافع بخش کاروبار اور ماحولیاتی ذمہ داری کو ترجیح دی جائے گی تاکہ دونوں ممالک کے عوام کو اس شراکت داری سے فائدہ پہنچ سکے۔*پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2026*پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم (PMIF) حکومت کا اہم پلیٹ فارم ہے، جس کا مقصد پاکستان کے معدنی شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور ملک کو عالمی سرمایہ کاروں، کان کنی کی کمپنیوں، مالیاتی اداروں اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے والوں سے جوڑنا ہے۔ یہ فورم پالیسی سازوں اور صنعتی رہنماں کو ایک پلیٹ فارم پر لاتا ہے تاکہ پاکستان کی معدنی صلاحیت کو اجاگر کیا جا سکے، شراکت داری اور سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے اور معدنی شعبے میں پائیدار ترقی اور ویلیو ایڈیشن کو آگے بڑھایا جا سکے۔پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم PMIF25 کے پہلے ایڈیشن میں 50 سے زائد ممالک سے 5 ہزار مندوبین نے شرکت کی۔ اس موقع پر 16 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے جبکہ 18 پینل مباحثے بھی منعقد کیے گئے۔PMIF26 کا 2026 ایڈیشن ابتدائی طور پر 8 اور 9 اپریل کو اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں منعقد ہونا تھا، تاہم اسے دوبارہ شیڈول کرتے ہوئے اب 12 اور 13 نومبر 2026 کو اسی مقام پر منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ و فاقی وزیر برائے توانائی(پیٹرولیم ڈویژن)علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ فورم کا مقصد کان کنی کے شعبے سے متعلق آگاہی کو فروغ دینا اور پائیدار سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی معدنی دولت کئی دہائیوں سے بڑی حد تک دریافت اور استعمال سے محروم رہی ہے۔سرمایہ کاری پر مرکوز یہ پلیٹ فارم حکومتوں، سرمایہ کاروں، کان کنی کمپنیوں، ٹیکنالوجی فراہم کرنے والوں اور معدنی ویلیو چین سے وابستہ دیگر فریقوں کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔ PMIF26 میں منصوبوں کی ترقی، معدنی تلاش، جدید ٹیکنالوجی، ویلیو ایڈیشن اور سرمایہ کاری پر زیادہ توجہ متوقع ہے۔ فورم کے تکنیکی پروگرام میں ارضیاتی تحقیق اور معدنی وسائل کا تخمینہ، ریموٹ سینسنگ، جیو فزکس اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز شامل ہیں، جن کا مقصد پاکستان کی معدنی ارضیات کو بہتر طور پر سمجھنے اور معدنی وسائل کی شناخت و ترقی کو فروغ دینا ہے۔

     

     

    Khabrain News

      Keep Reading

      پاکستان اور جرمنی کے درمیان اقتصادی تعاون سرمایہ کاری اور پارلیمانی روابط بڑھانے پر زور

      پشاور دیر کالونی سانحہ، نجی تعلیمی اداروں کی انسپکشن اور جانچ پڑتال کا حکم

      گلی قاضی عبدالباری والی میںغیر قانونی جمپ عوام کیلئیسردرد بن گئے

      تازہ ترین

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      باجوڑ میں موبائل سروس و انٹرنیٹ بند شہریوں کو مشکلات کا سامنا

      گورنر راج اور ایمرجنسی مسئلے کا حل نہیں حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے:حافظ نعیم

      ریاض حملے کے بعد حوثیوں کی نئی دھمکی، سعودی ایئرپورٹس استعمال نہ کرنے کی وارننگ

      * رابطوں کے باوجود پی ٹی آئی کی خاموشی، محسن نقوی کے اہم انکشافات

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.