اسلام آباد (ملک منظور احمد)چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستان اور جرمنی کے
درمیان اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری، تعلیم اور پارلیمانی روابط کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 سال مستقبل پر مبنی اور باہمی طور پر مفید شراکت داری کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں جرمنی کے قومی دن کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں پاکستان میں جرمنی کی سفیر اینا لیپل، سفارت کاروں اور دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔ چیئرمین سینیٹ نے اس موقع پر پاکستان کی پارلیمنٹ، حکومت اور عوام کی جانب سے جرمن قیادت اور عوام کو مبارکباد پیش کی اور جرمن یومِ اتحاد کو قومی یکجہتی، استقامت اور مشترکہ خوشحالی کی علامت قرار دیا۔سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان اور جرمنی کے دیرینہ دوستانہ تعلقات باہمی احترام، اعتماد اور تعاون پر استوار ہیں۔ علامہ محمد اقبال اور ڈاکٹر روتھ فا کی خدمات نے بھی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو تقویت بخشی ہے۔ انہوں نے پاکستان کے لیے جرمنی کے مسلسل تعاون کو سراہتے ہوئے ترقیاتی شعبوں، ماحولیاتی اقدامات، خواتین کو بااختیار بنانے اور انسانی ترقی کے لیے جرمن معاونت کو اہم قرار دیا۔چیئرمین سینیٹ نے جی ایس پی پلس اسکیم کے تحت پاکستان کی مسلسل شمولیت کے لیے جرمنی کی حمایت کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی اقتصادی زونز، قابلِ تجدید توانائی، اطلاعاتی ٹیکنالوجی، صنعتی ترقی اور قدر افزا مصنوعات کی تیاری ایسے شعبے ہیں جہاں جرمن سرمایہ کاری اور کاروباری شراکت داری کے وسیع امکانات موجود ہیں۔تعلیم اور عوامی روابط کے حوالے سے انہوں نے جرمن جامعات میں پاکستانی طلبہ کی بڑھتی ہوئی موجودگی کو خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ طلبہ کے ویزوں اور خاندانوں کے دوبارہ ملاپ کے ویزوں میں تاخیر سے متعلق مسائل پر مناسب توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے ہنرمند افرادی قوت کی نقل و حرکت میں تعاون کا خیرمقدم کرتے ہوئے ٹیکنالوجی، تحقیق اور صنعتی ترقی کے شعبوں میں اشتراک بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ قابلِ اطلاق قوانین اور ضوابط کے تحت دفاعی شعبے میں تعاون کے امکانات بھی تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق مختلف شعبوں میں مشترکہ اقدامات دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تکنیکی روابط کو مزید وسعت دینے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔پارلیمانی سفارت کاری کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان اور جرمنی کی پارلیمانوں کے درمیان باقاعدہ روابط اور علاقائی و عالمی امور پر قریبی مشاورت سے امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ میں مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے جرمن قیادت کو پاکستان کے دورے کی دعوت دیتے ہوئے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ مسلسل رابطوں اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے دونوں ممالک کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مزید مثر اور مضبوط شراکت داری میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
