راولپنڈی(خصوصی رپورٹر)کمشنر راولپنڈی ڈویژن سلمان غنی نے کہا کہ راولپنڈی میں پانی کی قلت ایک اہم مسئلہ ہے جس میں آنے والے دنوں میں مزید شدت آئے گی۔ پانی کی اس شدید قلت کے خاتمے، آبی وسائل کی بہتری اور ڈیمانڈ و سپلائی میں موجود گیپ کو ختم کرنے کے لئے جنگی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس صورتحال کے پیش
نظر حکومتِ پنجاب کی ہدایت پر بڑے منصوبوں چہان ڈیم، چراہ ڈیم، ددھوچا اور راول ڈیم کے موجودہ ذرائع پر کام تیز کرنے کے لئے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کمشنر آفس راولپنڈی میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کے دوران کیا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ نذارت علی، مینجنگ ڈائریکٹر واسا عزیز اللہ خان، سمال ڈیمز و دیگر محکموں کے افسران نے شرکت کی۔کمشنر راولپنڈی ڈویژن کو پانی کی ترسیل اور دستیاب آبی وسائل سے متلعق بریفننگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ واسا راولپنڈی کی اس وقت ڈیمانڈ 72mgd ہے جبکہ اس کو میسر پانی 51mgd ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق موجودہ 21mgd اگلے کچھ سالوں تک ایک خطرناک شکل اختیار کر جائے گی جسکے حل کے لیے ڈیمز اور فلٹریشن پلانٹس پر ہنگامی بنیادوں پر پیش رفت جاری ہے ۔ راولپنڈی میں پانی کی ضرورت کو پورا کرنے کیلیے راول ڈیم ، چہان ڈیم ، ددھوچا ڈیم ، چراہ ڈیم سمیت بورنگ سسٹم شامل ہے۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ددھوچا ڈیم کا تعمیراتی کام 92 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔ اس منصوبے کے تحت 28 کلومیٹر طویل ٹرانسمیشن لائن اور واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگایا جائے گا جو شہر کو روزانہ 35 ملین گیلن (MGD) صاف پانی فراہم کرے گا۔ اس نیٹ ورک کی مکمل تکمیل دسمبر 2029 تک متوقع ہے۔ چہان ڈیم کا واٹر ٹریٹمنٹ اور فلٹریشن پلانٹ اگلے سال (دسمبر 2027) تک مکمل کر لیا جائے گا۔ اس منصوبہ سے اڑھائی لاکھ سے زائد شہریوں کو پینے کا صاف پانی ملے گا۔ واسا راولپنڈی کے ماسٹر پلان کے تحت چراہ ڈیم بھی شامل ہے جس سے شہر کو مزید 28 ملین گیلن پانی فراہم کیا جا سکے۔کمشنر راولپنڈی ڈویژن نے متعلقہ محکموں کو احکامات جاری کرتے ہوئے تمام آبی منصوبوں کو بروقت مکمل کرنے پر زور دیا تاکہ آئندہ سالوں میں پانی کے چیلنج سے نمٹا جا سکے۔
