راولپنڈی(ویب ڈیسک)فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے مالدیپ کے صدر ڈاکٹر معیزو نے ملاقات کی اور پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے مطابق مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں کا اعتراف کیا۔پاکستان اور مالدیپ نے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور دفاعی تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ روابط کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔دونوں ممالک کی جانب سے باہمی دوستانہ روابط کو فروغ دینے اور مشترکہ مفادات کے شعبوں میں بھی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق ہوا۔ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور مالدیپ کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات باہمی احترام اور تعاون پر استوار ہیں، جبکہ دفاعی شعبے میں روابط کو مزید مستحکم بنانا دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ دریں اثناء صدر آصف علی زرداری سے مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے ملاقات کی۔ڈاکٹر محمد معیزو کی ایوانِ صدر اسلام آباد میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات ہوئی جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ملاقات کے دوران صدر مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان اور مالدیپ کے درمیان مضبوط اقتصادی تعاون کی اہمیت پر زور دیا، انہوں نے تعلیم، صحت، سماجی تحفظ اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں مالدیپ کی معاونت کے عزم کا اظہار بھی کیا۔بعدازاں معزز مہمانوں کے اعزاز میں صدرِ پاکستان کی جانب سے پروقار سرکاری عشائیے کا اہتمام کیا گیا، جو دوستانہ سفارتی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ آصف علی زرداری نے پاکستان اور مالدیپ کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور سیاسی خیرسگالی کو تجارت، سرمایہ کاری، روابط اور عوامی سطح پر تبادلوں میں اضافے میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تعلیم، صحت، انسانی وسائل کی ترقی، سماجی تحفظ اور پائیدار ترقی سمیت مختلف شعبوں میں مالدیپ کی معاونت کے لیے پرعزم ہے۔ صدر مملکت کا کہنا تھا کہ پاکستان مالدیپ کے ساتھ اپنے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔ یہ تعلقات مشترکہ عقائد، باہمی اعتماد، خودمختاری کے احترام اور پائیدار خیرسگالی پر قائم ہیں، دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے 60 سال مکمل ہونے کے موقع پر مالدیپ کے صدر کا سرکاری دورہ دوطرفہ شراکت داری کو مزید تقویت فراہم کر رہا ہے۔آصف علی زرداری نے مالدیپ کی ترقی میں پاکستان کے دیرینہ کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مالدیپ کے دارالحکومت مالے میں پارلیمنٹ کی عمارت اور سکول آف میڈیسن دونوں ممالک کی دوستی کی دیرپا علامتیں ہیں، انہوں نے اس تاریخی تعاون کو مستقبل میں بھی آگے بڑھانے اور عوامی سطح پر روابط کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت اجاگر کی۔ملاقات میں موسمیاتی تبدیلیوں اور ماحولیاتی خطرات سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے، دونوں رہنماں نے اس امر کو تسلیم کیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات قدرتی آفات سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک، بالخصوص چھوٹی جزیرہ ریاستوں اور موسمیاتی خطرات سے دوچار ترقی پذیر معیشتوں کے لیے غیرمتناسب چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔صدر مملکت نے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے، ماحولیات کے تحفظ اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں مالدیپ کے ساتھ تعاون گہرا کرنے کے لیے پاکستان کی آمادگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے مالدیپ کے صدر کے پانچ ملین پودے لگانے کے اقدام کی حمایت بھی کی اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔دونوں صدور نے علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق مذاکرات، سفارت کاری، خودمختار مساوات، باہمی احترام اور تنازعات کے پرامن حل کی اہمیت اجاگر کی۔اس موقع پر دونوں رہنماں نے فلسطینی عوام کے جائز حقوق اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا۔ملاقات کے بعد صدر مملکت آصف علی زرداری نے مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو اور ان کے وفد کے اعزاز میں ضیافت کا اہتمام کیاجس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف، چیف آف ڈیفنس فورسز اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق بھی شریک ہوئے ۔اِسی طرح چیف آف دی نیول سٹاف ایڈمرل نوید اشرف، چیف آف دی ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ جنرل سید عامر رضا، وفاقی کابینہ کے ارکان، پارلیمنٹیرینز اور سفارتی کور کے نمائندوں نے شرکت کی۔
فیلڈ مارشل
