شیخوپورہ (بیورو رپورٹ) تحریک انصاف نظریاتی کے چیئرمین اختر اقبال ڈار نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی فیکٹ اینڈ فائنڈنگ کمیٹی کا محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر شپ سے ہٹانے جیسے مطالبے اس بات کا ثبوت ہیں کہ بانی کسی سے مخلص نہ ہے اور نہ ہی کسی کو مخلص سمجھتا ہے ہر کسی کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے اس کی تضحیک کی جاتی ہے لہذا اسی وجہ سے اس گھر سے ہر کوئی رسوا ہو کر ہی نکلا ہے مخلص نظریاتی پرانے ساتھیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے باہر سے نامزدگیاں کرنا بانی کی تاریخ ہے نا اہل نکمے بددیانت عثمان بزدار اور پرویز الٰہی جبکہ غیر متعلقہ محمود اچکزئی اور راجہ ناصر کی نامزدگیاں اس کی مثالیں ہیں انہوں نے کہاکہ علی امین گنڈا پور سہیل آفریدی کی نامزدگیاں تخریب کاری گھیراؤ جلاؤ کے عوض کی گئی جبکہ ان کو بھی رسوائی کا سامنا رہا انہوں نے کہاکہ شاہ محمود قریشی جیسے لوگوں کو آگے نہ لانا اس بات کا مظہر ہے کہ بانی کسی کو پنپتے ہوئے دیکھنا نہ چاہتا ہے انہوں نے کہاکہ مولانا فضل الرحمن کو جلسوں میں ڈیزل کہنا اور اس شخص کو مولانا کہنا ہی غلط قرار دینے والے آج اس کے سپرد پارٹی معاملات اور ثالثی سپرد کیے بیٹھے ہیں جبکہ وقت نکل جانے کے بعد مولانا فضل الرحمن کے حصے بھی رسوائی کے سوا کچھ نہ آئے گا۔
