لاہور(خبریں ڈیجیٹل) ‘یوریشین رائنیک’ نامی پرندہ خطرہ محسوس ہونے پر خود کو بچانے کے لیے قدرت کی سب سے انوکھی اور خوفناک اداکاری کا سہارا لیتا ہے، جہاں یہ اپنی گردن کو بالکل کسی زہریلے سانپ کی طرح لچکدار انداز میں گھماتا ہے اور سانپ جیسی پھنکار نکالتا ہے۔ کٹھ پھوڑے کے خاندان سے تعلق رکھنے والا یہ چھوٹا پرندہ جب اپنے گھونسلے یا درخت کے سوراخ میں موجود ہوتا ہے اور کوئی شکاری (جیسے نیولا یا بلی)اس پر حملہ کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو یہ اڑنے کے بجائے اپنی گردن کو 180 ڈگری تک عجیب و غریب زاویوں پر مروڑنا شروع کر دیتا ہے۔اس کی پشت پر موجود بھورے اور سیاہ رنگ کے نمونے سانپ کی چمکدار جلد سے اس حد تک مشابہت رکھتے ہیں کہ اندھیرے سوراخ میں شکاری کو یہی گمان ہوتا ہے کہ اندر کوئی پرندہ نہیں بلکہ ایک غصیلا اور زہریلا سانپ بیٹھا ہے۔ یہ حیرت انگیز بصری دھوکہ شکاری کو خوفزدہ کر کے دور بھاگنے پر مجبور کر دیتا ہے۔سائنسدانوں کے مطابق رائنیک پرندے کا یہ دفاعی طریقہ کار صرف گردن گھمانے تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا پورا جسم اس اداکاری میں حصہ لیتا ہے۔ جب یہ سانپ کا روپ دھارتا ہے، تو یہ اپنے سر کے پروں کو کھڑا کر لیتا ہے اور اپنی پونچھ کو پھیلا کر چٹانوں یا لکڑی پر ایک خاص تال کے ساتھ جھومتا ہے، جس سے اس کی نقل بالکل اسٹرائیک کرنے کے لیے تیار ناگ جیسی لگتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ اپنے گلے سے ایسی تیز اور سچی پھنکار کی آواز نکالتا ہے جسے سن کر کوئی بھی جاندار دھوکہ کھا جائے۔قدرت کی اس بے مثال اور خوفناک اداکاری کی وجہ سے ہی اس پرندے کا نام ‘رائنیک’ ( یعنی مڑی ہوئی گردن والا) رکھا گیا ہے۔ یہ معصوم پرندہ بغیر کسی زہر یا طاقت کے، صرف اپنی نقل اتارے کی جادوئی صلاحیت کی بدولت جنگل کے بڑے بڑے شکاریوں کو مات دے دیتا ہے۔

