نواشنگٹن، نیو یارک، تہران ( نیوز ایجنسیاں) ٹرمپ کی شکست کے بعد امریکی سٹاک مارکیٹ کریش کرگئی۔ ایک ہی دن میں سرمایہ کاروں کے 25 کھرب ڈالر ڈوب گئے، اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے استعفیٰ دیدیا۔ ادھر ٹرمپ اور نیتن یاہو کی شکست پر تہران میں جشن منایا گیا۔ ڈیموکریٹک پارٹی نے صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کا احتساب، اختیارات
محدود کرنے کا اعلان کردیا ، جبکہ امریکی صدر نے ویٹو پاور استعمال کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے سرخ کیپ میز پر سجا کر تصویر شیئر کردی، ان کا کہنا ہے کہ ایران جنگ دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ جلد کروں گا۔ جبکہ ایران نے کہا ہے کہ ہماری 7 شرائط پوری کئے بغیر آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی۔ علاوہ ازیں ایران نے قشم جزیرے کے قریب 2 مزید امریکی ڈرونز پکڑنے کا دعویٰ کیا ہے جس کے بعد تعداد 6 ہوگئی۔ امریکی سٹاک مارکیٹ میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص کی فروخت کے باعث شدید مندی ریکارڈ کی گئی، جس کے نتیجے میں نیسڈیک 100انڈیکس کی مجموعی مالیت میں 2.5 ٹریلین ڈالر کی کمی ہوگئی۔رپورٹ کے مطابق امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی بڑی کامیابی کے بعد سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر اور اے آئی انفرااسٹرکچر کی توسیع متاثر ہوسکتی ہے۔ اس خدشے کے باعث مسلسل دوسرے روز اے آئی سے وابستہ کمپنیوں کے حصص میں فروخت کا رجحان برقرار رہا۔چِپ ساز کمپنیوں اور ڈیٹا سینٹرز کو کمپیوٹنگ کی سہولت فراہم کرنے والی کمپنیوں کے حصص میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی۔دریں اثناء امریکہ میں وسط مدتی انتخابات میں شاندار کامیابی کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کا احتساب کرنے اور ان کے اختیارات کو محدود کرنے کا اعلان کردیا ، جس سے واشنگٹن میں آئندہ دو سال کے دوران سیاسی کشیدگی اور قانون سازی میں تعطل کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔قبل ازیں امریکا میں وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو پہلا بڑا دھچکا لگ گیا، محکمہ انصاف کی اسسٹنٹ اٹارنی جنرل ہرمیت ڈھلون نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا۔ غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہرمیت ڈھلون کا استعفی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کی ناکامی کے بعد سامنے آیا ہے، جسے ٹرمپ انتظامیہ کیلئے ایک اہم سیاسی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔دوسری جانب امریکی انتخابات میں ریپبلکنز کی شکست کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کے خلاف ویٹو کے استعمال کا عندیہ دے دیا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے سرخ کیپ کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی اور پھر اسے اوول آفس میں اپنی میز پر نمایاں طور پر سجا دیا۔امریکی صدر نے وسط مدتی انتخابی نتائج کے بعد اعلان کیا تھا کہ ڈیموکریٹس جو بھی احمقانہ اقدام کریں گے اسے میں ویٹو کر دوں گا۔امریکی آئین کے مطابق صدر کسی بھی بل کو ویٹو کر سکتے ہیں۔قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ جلد کر لیں گے،ایران امریکی منظوری کے بغیر جوہری پروگرام سے متعلق کچھ نہیں کرسکتا ۔امریکی ویب سائٹ ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق صدرٹرمپ نے قومی سلامتی کے مشیروں سے ملاقات کی ہے جس میں ایران کے خلاف ممکنہ نئے حملوں، معاشی دبا ئوبرقرار رکھنے اور جنگ ختم کرنے کیلئے سفارتی معاہدے کے امکانات پر غور کیا گیا۔ ایگزیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ اور ان کے اعلیٰ قومی سلامتی کے مشیروں نے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد پہلی مرتبہ ایران کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا، یہ ملاقات صدر کو دی جانے والی ہفتہ وار انٹیلی جنس بریفنگ کے دوران ہوئی، دو امریکی حکام نے بھی اس ملاقات کی تصدیق کی ہے۔دریں اثنا اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا ایران کے جوہری پروگرام کو دوبارہ بحال ہونے سے روکنے کے لئے مزید فوجی کارروائی ضروری ہے یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ اب ہم فیصلہ کریں گے کہ کیا ہم مزید حملے کرنا چاہتے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے اور ایسا دوبارہ کبھی نہیں ہوگا۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر ممکن ہوا تو میں باقی ملک یعنی ایران کو تباہ نہیں کرنا چاہوں گا لیکن شاید مجھے ایسا کرنا پڑے، آپ کو جلد ہی معلوم ہو جائے گا۔ دریں اثناء امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ کے بعد وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بھی ٹرمپ انتظامیہ چھوڑنے سے متعلق خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرا ہمیشہ سے ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کی مدتِ صدارت کے اختتام تک کام کرنے کا منصوبہ رہا ہے۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو انٹرویو کے دوران مارکو روبیو نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں کہ انتظامیہ چھوڑنے سے متعلق خبریں کہاں سے سامنے آ رہی ہیں۔امریکی مڈٹرم انتخابات میں جین زی نے ڈیمو کریٹس کو برتری دلانے میں اہم کردار ادا کیا،امریکی ٹی وی کے سروے میں بتایا گیا کہ 73فیصد جین زی نے ڈیموکریٹس جبکہ 25فیصد جین زی نے ری پبلکنز کو ووٹ دیا۔ادھر تہران کے انقلاب اسکوائر میں مظاہرین نے ٹرمپ، نیتن یاہو اور امریکی حکام کی تصاویر والا دیوہیکل پوسٹر نذر آتش کردیا۔امریکا میں ہونے والے وسط مدتی الیکشن میں صدر ٹرمپ کی جماعت کی شکست اور اس سے چند روز قبل اسرائیل میں نیتن یاہو کی سادہ اکثریت حاصل نہ کرپانے کی خوشی میں ایران میں جشن منایا گیا۔ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ خطے میں کسی بھی نئی جارحیت یا مہم جوئی کی صورت میں آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی۔ترجمان ایرانی فوج کے مطابق امریکا کے پاس آبنائے ہرمز کھلوانے کا واحد راستہ ایران کی 7 شرائط پر عمل درآمد ہے۔اس سے قبل ایران نے جوہری تنازع پر تجاویز قطر کے توسط سے امریکا کو بھجوا دیں۔ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ ان تجاویز پر بات چیت ایران کی سات شرائط پوری ہونے پر ہی ہوسکتی ہے، امریکا ان تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے۔انہوں نے بھی بتایا کہ ایران نے دیگر شرائط کے علاوہ امریکی پابندیاں اٹھانے، منجمد ایرانی اثاثے بحال کرنے اور جنگی ہرجانہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔واشنگٹن کا موقف ہے کہ ابتدائی مذاکرات میں جوہری معاملات کو بھی شامل کرنا ہوگا۔علاوہ ازیں ایران نے اپنے جنوبی ساحل کے قریب قشم جزیرے کے علاقے میں دو مزید امریکی ڈرونز ناکارہ بنانے کا دعوی کیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ ڈرونز الیکٹرانک وارفیئر کے ذریعے غیر موثر کئے گئے۔ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے ایک ترجمان نے بتایا کہ حال ہی میں اسی نوعیت کے پانچویں اور چھٹے ڈرون کو بھی ناکارہ بنایا گیا ہے۔ ان کے بقول، اس طرح ایرانی فورسز کے قبضے میں آنے والے امریکی MQM-170 ڈرونز کی مجموعی تعداد چھ ہوگئی ہے۔
سٹاک مارکیٹ
