لاہور (کورٹ رپورٹر) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم کے حکم پر اینٹی کرپشن نے کارروائی کرتے ہوئے جعلی کورٹ فیس ٹکٹس بنانے والے نیٹ ورک کا سراغ لگا لیا،محکمہ اینٹی کرپشن ضلع کچہری لاہور کے مختلف دفاتر پر چھاپے مار کر جعلی ٹکٹوں کی تیاری میں استعمال ہونے والی مشینیں اور دیگر سامان قبضے میں لے لیا جبکہ لاکھوں جعلی کورٹ فیس ٹکٹس بھی برآمد کرلیے ،محکمہ اینٹی کرپشن نے قومی خزانے کو مبینہ طور پر ڈیڑھ ارب روپے کا نقصان پہنچانے میں ملوث سول کورٹ کاپی برانچ کے انچارج زمان اللہ، ماڈل ٹائون کچہری کے ریکارڈ کیپر اعجاز احمد سمیت 9 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا جبکہ متعدد ملزمان کو گرفتار کر کے دیگر ملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں، ابتدائی تحقیقات کے مطابق عدالتوں میں جعلی کورٹ فیس ٹکٹس کی تیاری اور فروخت کے ذریعے سرکاری محصولات کی چوری کی جارہی تھی۔ ذرائع کے مطابق صرف لاہور کی عدالتوں سے روزانہ تقریباً 15لاکھ روپے کورٹ فیس کی آمدن متوقع ہے تاہم سال 2025 اور 2026 کے دوران عدالتوں میں ہونے والے کام کے حجم اور سرکاری خزانے میں جمع ہونے والی رقم میں نمایاں فرق سامنے آیا ہے۔ تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ کروڑوں روپے سرکاری خزانے میں جمع ہونے کے بجائے جعلی ٹکٹس کے ذریعے ہڑپ کیے گئے، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے واضح کیا ہے کہ عدالتی نظام کے ساتھ فراڈ اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں، جعلی کورٹ فیس ٹکٹس کے نیٹ ورک میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، اینٹی کرپشن نے سکینڈل کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے سرکاری اہلکاروں سمیت دیگر مبینہ کرداروں کی نشاندہی شروع کردی ہے۔
