Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • کیٹ مڈلٹن شہزادہ ہیری سے صلح کیلئے شہزادہ ولیم پر دبائو ڈال رہی ہیں: شاہی ذرائع کا دعویٰ
    • بھارتی فورسز نے ترال پلوامہ میں نظربند کشمیری کا رہائشی مکان تباہ کردیا
    • اوکاڑہ’ پولیس مقابلے میں 51 مقدماتمیں ملوث ڈاکو ہلاک، 2 فرار
    • پنجاب میں سموگ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی، 4صنعتی یونٹس اور بھٹے سیل
    • ملتان:وینڈر شکرقندیوں کو ترتیب دینے کے بعد گاہکوں کی راہ تک رہا ہے۔
    • راولپنڈی پولیس کی کارروائیاں،7 افراد کو حراست میں لے کر شراب اور اسلحہ معہ ایمونیشن برآمد
    • مجرم شاہد کو 14 سال قید اور 4 لاکھ روپے جرمانے کی سزا
    • ضلع بھر میں قائم سرکاری مراکز صحت کی حالت زار، مریض ذلیل و خوار ہونے پر مجبور
    • ٹھیکیدار اور سینیٹیشن عملے کی ملی بھگت، جگہ جگہ گندگی،بیماریاں پھیلنے کا خدشہ
    • ممنوعہ غیر ملکی ادویات سمگل کرنے کی کوشش ناکام، خاتون گرفتار
    • تھانہ سول لائنز گوراقبرستان میں چور کیبل چوری کرتے ٹریکٹر سمیت گرفتار
    • راولپنڈی،2 منشیات سپلائر گرفتار 3 کلو سے زائد چرس برآمد
    • پشاور:کے پی گورنر فیصل کریم کنڈی اینٹی انکروچمنٹ کارروائیوں کو کنڈی گھڑی قمر دین میں کھڑے دیکھ رہے ہیں۔
    • پولیس کی جوئے کے اڈے پر ریڈ، 5 ہزار 140 نقدی ایک گاڑی 2 موبائل فون برآمد، ملزم گرفتار، مقدمہ درج
    • اسپیلنگ بی مقابلے کا جی آر-6 کیمپس میں کامیاب انعقاد
    • تھانہ بنی پولیس کی کارروائی، معمولی تلخ کلامی پر شہری کو زخمی کرنیوالا ملزم گرفتار
    • مری میں لین دین کے تنازع پر چھری کے وار سے ایک شخص زخمی
    • سی سی ڈی چکوال کی کارروائی، ڈکیتیوں میں ملوث ملزما ن گرفتار
    • گیارہویں جماعت کے طالبعلم ساتھ مبینہ بدفعلی کی کوشش
    • تھانہ جاتلی، 6 سال پرانا اغوا کا کیس ٹیکنیکل بنیادوں پر حل، مغویہ بازیاب جاتلی
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    عہدوں کی بندر بانٹ برداشت نہیں کرینگے

    By Daily Khabrainمئی 1, 2018
    Share Facebook Twitter Email WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ صحت کے شعبے کو ٹھیک کرنا ہے اور عہدوں کی بندر بانٹ بالکل برداشت نہیں کریں گے۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ (پی کے ایل آئی) میں بھاری تنخواہوں پر افسران کی تعیناتی سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی۔ پی کے ایل آئی کی جانب سے میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر عامر یار خان عدالت کے روبرو پیش ہوئے اور بتایا کہ اسپتال تاحال تعمیری مراحل میں ہے اور اس میں 43 ڈاکٹرز خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پی کے ایل آئی کے سربراہ ڈاکٹر سعید اختر کتنی تنخواہ وصول کررہے ہیں اور کیا ڈاکٹر سعید کی اہلیہ بھی پی کے ایل آئی میں ملازمت کررہی ہیں؟۔ ڈاکٹر عامر یار خان نے بتایا کہ ڈاکٹر سعید اختر بارہ لاکھ روپے تنخواہ وصول کررہے ہیں اور ان کی اہلیہ بھی پی کے ایل آئی میں ملازمت کررہی ہیں جن کی ماہانہ تنخواہ 8 لاکھ روپے ہے۔چیف جسٹس نے چیف سیکرٹری سے کہا کہ کیا سرکاری اسپتالوں میں کسی ماہر ڈاکٹر کو اتنی تنخواہ دی جا رہی ہے، چیف سیکرٹری صاحب اور سیکرٹری صحت صاحب، ہم نے صحت کے شعبے کو ٹھیک کرنا ہے، عہدوں کی بندر بانٹ ہم برداشت نہیں کریں گے، اگر پاکستان میں ٹیلنٹ ختم ہو گیا ہے تو ہمیں آپ بتا دیں، باہر سے آنے والے ڈاکٹرز اور مقامی ڈاکٹرز میں یہ امتیازی سلوک کیوں ہے، اگر آپ کا فارنزک آڈٹ کروا لیا جائے تو پتہ چل جائے گا کہ بیس ارب میں سے سات ارب بھی نہیں لگا ہوگا۔ڈاکٹر عامر یار خان نے کہا کہ پی کے ایل آئی میں تعینات ڈاکٹرز کے پرائیویٹ پریکٹس پر پابندی عائد ہے، جس کی وجہ سے کسی بھی مقامی ڈاکٹر نے ملازمت کیلئے اپلائی ہی نہیں کیا، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ بیرون ملک سے اعلی تعلیم حاصل کرکے واپس آنے والوں کو فلاحی بنیادوں پر کام کرنا چاہیے نہ کہ کمرشل بنیادوں پر کام کیا جائے۔چیف جسٹس نے شیخ زید ہسپتال کے لیور ٹرانسپلانٹ یونٹ کی بندش کے خلاف از خود نوٹس کی بھی سماعت کی۔ عدالت نے لیور ٹرانسپلانٹ یونٹ کی بندش پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایک ماہ میں یونٹ کو معیار کے مطابق بنانے کی ہدایت کی۔ چیف جسٹس نے شیخ زید ہسپتال سمیت تمام سرکاری ہسپتالوں کی ایمرجنسی میں تمام سہولیات ایک ماہ میں فراہم کرنے کا حکم بھی دیا۔ڈاکٹر فیصل مسعود نے عدالت کو بتایا کہ ہسپتال میں ٹرانسپلانٹ یونٹ میں 2 اموات ہوئی تھیں، شعبہ معیار پر پورا نہیں اترتا تھا۔ چیف جسٹس پاکستان نے صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق صاحب سے کہا کہ یہ کیا ہو رہا ہے، آپ نے ایک ہسپتال کو بہتر کرنے کی بجائے دوسرا ہسپتال بنا دیا، جب سے شیخ زید ہسپتال پنجاب حکومت کے زیر استعمال آیا، اس کی حالت ٹھیک نہیں ہوئی۔خواجہ سلمان نے چیف جسٹس سے کہا کہ آپ شفقت کی نگاہ سے دیکھیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ میں نے شفقت کی نگاہ سے ہی دیکھا، لیکن ہسپتالوں میں کچھ نظر نہیں آیا، مجھے بتائیں سابق چیرمین شیخ زید کی تقرری کس کی سفارش پر ہوئی، ڈاکٹر فرید کس کے دوست ہیں اور انکے پیچھے کس کی سفارش تھی۔جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا غفلت برتنے والے سرجن اور ڈاکٹرز کے خلاف کوئی کاروائی ہوئی؟۔ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی ہڑتال کے باعث مریض رل جاتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ خواجہ سلمان صاحب اس محکمے کے اندر بھی احتساب ہونا چاہیے۔
    سپریم کورٹ آف پاکستان نے الیکشن ایکٹ کی دفعہ 202 کالعدم قرار دینے کی نظرثانی درخواست مسترد کردی۔ گزشتہ روز چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پاکستان ملت پارٹی کے سیکرٹری جنرل شیخ مشتاق علی کی الیکشن ایکٹ کی دفعہ 202 کالعدم قرار دینے سے متعلق نظرثانی کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ الیکشن ایکٹ کا سیکشن 202 آئین کی روح کے خلاف ہے، ایک دفعہ میں ہر سیاسی جماعت کو دو لاکھ روپے فیس جمع کروانے کا پابند کیا گیا ہے، نئے ایکٹ میں سیاسی جماعتوں کو 2000ممبران کے شناختی کارڈ جمع کروانے کا بھی پابند کیا گیا ہے۔ درخواست گزار کی جانب سے قانونی نکتہ اٹھایا کہ آئین کے آرٹیکل 17کی دفعہ 2کے تحت پاکستان کے ہر شہری کو سیاسی جماعت بنانے کا حق حاصل ہے۔ اس لیے دو لاکھ روپے فیس اور دو ہزار ارکان کی فہرست فراہم کرنے کی شرائط کو ختم کیا جائے۔ فریقین کے دلائل سننے کے بعد چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے درخواست مسترد کردی۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے شیخ زید ہسپتال کے لیور ٹرانسپلانٹ سینٹر کی بندش کا از خود نوٹس لے لیا اور ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی کے تمام ممبران کو طلب کر لیا۔ گزشتہ روز چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے شیخ زید ہسپتال کے لیور ٹرانسپلانٹ سینٹر کی بندش کا نوٹس لیا اور حیرت کا اظہار کیا کہ سینٹر کو کس اتھارٹی کے تحت بند کیا گیا ہے۔ چیف جسٹس پاکستان کے استفسار پر چیئرمین شیخ زید ہسپتال نے بتایا کہ اتھارٹی کے چیئرمین وزیر صحت پنجاب خواجہ سلمان اور ارکان میں سیکرٹری صحت بھی شامل ہیں۔ چیف جسٹس پاکستان نے ناراضگی کا اظہار کیا کہ اتھارٹی نے جنوری سے اب تک کی رپورٹ کیوں نہیں کی۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ ایک ڈونر کی موت ہوئی ذمہ داروں کو سامنے لانے کی بجائے ٹرانسپلانٹ سینٹر کیسے بند کر دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ الشفا ہسپتال کو مالی فائدہ پہنچانے کے لئے لیور ٹرانسپلانٹ سینٹر ہی بند کر دیا گیا۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی کے تمام ارکان کو طلب کر لیا اور واضح کیا کہ کوئی ایک رکن بھی غیر حاضر نہیں ہونا چاہیے سب کو اطلاع دے دی جائے۔

     

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      حکومت پنجاب کے ترقیاتی اقدامات’ داتا دربار کے اطراف کا منظر تبدیل

      حریم فاروق اورفیصل قریشی یونیورسٹی میں ڈانس پرفارمنس پر تنقید کی زد میں آ گئے

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      تازہ ترین

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      باجوڑ میں موبائل سروس و انٹرنیٹ بند شہریوں کو مشکلات کا سامنا

      گورنر راج اور ایمرجنسی مسئلے کا حل نہیں حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے:حافظ نعیم

      ریاض حملے کے بعد حوثیوں کی نئی دھمکی، سعودی ایئرپورٹس استعمال نہ کرنے کی وارننگ

      * رابطوں کے باوجود پی ٹی آئی کی خاموشی، محسن نقوی کے اہم انکشافات

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.