فیروز والا (ویب ڈیسک) لیڈی کانسٹیبل کو تھپڑ مارنے کے معاملے میں انصاف نہ ملنے پر لیڈی کانسٹیبل فائزہ گزشتہ روز مستعفی ہوگئیں تاہم اب ملزم وکیل نے بھی اپنے بیان تبدیل کردیا۔احمد مختار کا کہنا ہے اس نے لیڈی کانسٹیبل کو تھپڑ نہیں مارا، تکرار کچہری گیٹ پر کھڑے پولیس ملازم علی احمد سے ہوئی اور ڈی ایس پی اور ایس ایچ او نے ان سے ذاتی انتقام لیا۔گزشتہ روز وکیل کو ضمانت ملنے پر دلبرداشتہ ہوکر فائزہ نے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔خاتون اہلکار کا مو¿قف ہے کہ مجھے ذہنی ٹارچر کیا جارہا ہے، نوکری عوام کی خدمت کرنے کے لیے کر رہی تھی۔اپنے ویڈیو بیان میں ان کا کہنا تھا کہ مجھے پاکستان مدینہ ریاست میں انصاف ملتا نظر نہیں آرہا۔فائزہ کا کہنا تھا کہ مجھ پر دباو¿ ڈالا جارہا ہے، سمجھ نہیں آرہا کہ میں کہاں جاو¿ں یا خودکشی کرلوں۔انہوں نے کہا کہ میں کمزور عورت ہوں جو میرا جرم ہے، اس مافیا کا مقابلہ نہیں کرسکتی اور محکمہ پولیس سے استعفی دے رہی ہو۔
لیڈی کانسٹیبل کو تھپڑ نہیں مارا، وکیل کا دعویٰ،سمجھ نہیں آرہا کہاں جاوں یا خودکشی کرلوں:فائزہ
