کراچی(ویب ڈیسک) صحت عامہ سے متعلق افرادی قوت میں گزشتہ دہائی کے دوران خواتین کی تعدا د میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔تاہم،عالمی سطح پر طبی شعبہ میں خواتین قائدانہ عہدوں پر خواتین کی نمائندگی کم ہے۔
اس خلاء کو دور کرنے اور قائدانہ کردار میں خواتین کی مدد کیلئے پاکستان جی آئی اینڈ لیور ڈیزیزسوسائٹی کی صد ر اورلیاقت نیشنل اسپتال میں گیسٹرواینٹرو لوجی ریذیڈنسی پروگرام کی ڈائریکٹر پروفیسر لبنی کمانی نے بانی پارٹنر فیروز سنز لیبارٹریز کے تعاون سے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ”ویمن ان لیڈر شپ لیگ ان میڈیسن“ (Will-Med)متعارف کرایا ہے۔
اس موقع پر Will-Medکی سرپرست و بانی پروفیسر لبنی کمانی نے کہا کہ ”اس فورم کا مقصد میڈیکل کالجوں میں داخلہ لینے والی خواتین کو طبی افرادی قوت میں شامل ہونے اور ان کی مکمل صلاحیتوں کے ادراک کی ترغیب ہے،Will-Medفورم میڈیسن اور سرجری میں ابھرتی ہوئی خواتین لیڈرز کو رہنمائی،تربیت اور مدد فراہم کرے گا۔یہ نیٹ ورک کے مقاصد کے فروغ کیلئے ویبنارز،سمپوزیم اورورکشاپس کا بھی اہتمام کرے گا۔“ ان کا کہنا تھا وومن اکوالیٹی کے لیے130 سال لگیں گے لیکن آج اس پلیٹ فارم سے یہ بات کا قرار کیا جا رہا ہے جو کہ ایک اچھااقدام ہے۔
فیروز سنز لیبارٹریز کے سی ای او عثمان خالد وحید کا کہنا تھا کہ”پاکستان کو اعزاز حاصل ہے کہ اس کے پاس صحت کے شعبہ میں انتہائی باصلاحیت خواتین موجود ہیں،تاہم شاندار رول ماڈل ہونے کے باوجود ہمارے ہاں اعلیٰ عہدوں پر خواتین کو نمائندگی نہیں دی جاتی۔
WILL-Medفورم کا آغاز ہمارے اس یقین کی تصدیق کرتا ہے کہ طبی شعبہ میں خواتین کیلئے قائدانہ خلا کو دور کرکے پاکستان میں مریضوں کی دیکھ بھال میں ڈرامائی طور پر بہتری لائی جاسکتی ہے۔“
طبی شعبہ کی افرادی قوت میں صنفی تنوع اورشمولیت کے فروغ کیلئے Will-Medجیسے اقدامات اہم ہیں۔Will-Medکا مقصد رہنمائی اور تربیت کیلئے ایک معاون نیٹ ورک فراہم کرکے خواتین کو میڈیسن اور سرجری میں با اختیار بنانا اوراپنے پیشہ وارانہ کیریئر میں درپیش مشکلات پر قابو پانے میں ان کی مدد کرنا ہے۔
خواتین کے عالمی دن کے موقع پر WILL-MEDانیشیٹیو کا طبی شعبہ میں خواتین کی قیادت کی حمایت کا عہد
