Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • لبنان، شام اور غزہ کے مقبوضہ علاقوں سے انخلا نہیں کریں گے:اسرائیلی وزیرِ دفاع
    • انمول عرف پنکی منشیات فروشی کے مقدمے سے بری
    • کرسٹیانو رونالڈو نے لیونل میسی کے والد کے انتقال پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے میسی سے اظہار یکجہتی کیا
    • زاوی ہرنینڈز نیدرلینڈز کےنئے فٹبال کوچ مقرر
    • رسل ویسٹ بروک کا این بی اے سے ریٹائرمنٹ کا اعلان
    • چین کی میگلیو ٹرین نے عالمی ریکارڈ قائم کر دیا، صرف 5 سیکنڈ میں 800 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار
    • جولائی 2026دنیا کا ریکارڈ پر دوسرا گرم ترین مہینہ قرار
    • کولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 265 ہوگئی، 496 افراد تاحال لاپتا
    • ٹرمپ کا اعلان، وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ عہدہ چھوڑ دیں گی
    • پاکستان نے بھارت کے خلاف باسمتی چاول کے ٹریڈ مارک کیس میں کامیابی حاصل کرلی
    • دنیا بھر میں لاکھوں افراد آج نایاب سورج گرہن کا مشاہدہ کریں گے
    • سابق کرکٹر عاقب جاوید کی صاحبزادی عقبہ جاوید پیاگھرسدھار گی
    • پاکستانی شوٹرز کا شاندار کارنامہ، برٹش اوپن میں 13 تمغے جیت لیے، 7 طلائی تمغے شامل
    • بابر اعظم دو سال بعد دوبارہ آئی سی سی ٹیسٹ ٹاپ 10 رینکنگ میں شامل ہو گئے۔
    • پاکستان کے محمد زبیر ٹیکن 8 کے عالمی چیمپئن بن گئے
    • خواجہ آصف: امریکا اور ایران ممکنہ امن معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں
    • پاکستان ویمنز نےایشین نیٹ بال چیمپئن شپ میں جنوبی کوریا کو 72-23 سے شکست دے دی
    • مغربی کنارے میں اسرائیلی چھاپے، فلسطینی صحافی سمیت 3 افراد گرفتار
    • پاکستانی طالبہ پری وش حکیم نے ایشین سائنس کیمپ میں سلور میڈل جیت لیا
    • ٹرمپ: میں ایران پر اعتماد نہیں کرتا، انہوں نے مجھ سے مسلسل جھوٹ بولا ہے
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    ججز کا خط،دباؤ تکلیف کا یا ریلیف کا؟

    By Khabrain Newsمارچ 31, 2024
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    ہربحران میں آگے بڑھنے کاموقع بھی پوشیدہ ہوتا ہے میں کوشش کرتاہوں کہ بحران میں موجود اس موقع کو دیکھا جائے اوراس موقع سے فائدہ اٹھایا جائے یہی فیصلہ بحران سے نکالتا ہے اور اس جیسے مزید بحرانوں سے بچاتا بھی ہے۔اسلام آباد کے چھ ججز کا مشترکہ خط عدلیہ کے بحران کی طرف اشارہ کررہا ہے ۔اس بحران کا مثبت پہلو یہ ہے کہ ماضی کے برعکس اس خط کے بعد چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ردعمل انتہائی شاندار اورتیز ترین رہا ہے ۔پہلی مرتبہ اس مسئلے کو مسئلہ سمجھ کر اس کے حل اور اس مسئلے سے نکلنے کا سفر شروع کردیا گیاہے۔اس سے پہلے ہمیشہ ہی جس نے کوئی ایسا الزام لگایا اس الزام کی کوئی تفتیش یا تحقیق کی بجائے الزام لگانے والے جج کو کٹہرے میں کھڑا کردیا گیا۔چاہے وہ شوکت عزیزصدیقی ہوں،جج ارشد ملک ہوں یا رانا شمیم ہوں ۔ان میں سے ایک سابق جج نے عدالت سے معافی مانگی ۔جسٹس شوکت کو سپریم جوڈیشل کونسل نے بغیر سنے اور حق دفاع تک ختم کرکے نوکری سے نکال دیا۔ساتھی ججز نے معاشرتی بائیکاٹ کردیا اور جج ارشد ملک تو زندگی کی قید سے آزاد ہوگئے۔موجودہ الزامات کے بعد ایسی نوبت نہیں آئی جو ایک مثبت پہلو ہے ۔اور ساتھ ہی اس مسئلے سے آنکھیں بھی نہیں پھیری گئیں۔چیف جسٹس نے فوری ان تمام ججز کو بلواکر ان سے بات کی ۔ان کا موقف سنا اور فل کورٹ اجلاس بلا یا یہی فل کورٹ اجلاس جس کی گزشتہ ادوار میں روایت تک مرچکی تھی ۔ایک نہیں دو دن فل کورٹ اجلاس ہوتا رہا اورپوری سپریم کورٹ کی اجتماعی دانش نے یہ فیصلہ کیا کہ اس ایشوکی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنادیاجائے ۔حکومت وقت نے اس حکم پرعمل کیا اوراس معاملے کی تحقیقات شروع ہورہی ہیں۔اب کسی کو یہ کمیشن اچھا لگے یا براملکی مروجہ قوانین کے مطابق تفتیش و تحقیق کا طریقہ کار تو یہی ہے۔جس کو ریٹائرڈ جج پر اعتراض ہے اس کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ آڈیولیکس کے بعد حکومت نے حاضر جج کی سربراہی میں کمیشن بنایا تھا تو ا سوقت کے چیف جسٹس بندیال صاحب نے اس کو کام سے روک دیا تھا اور آڈیولیکس کے ایشو پر مٹی ڈال دی گئی ۔
    ججز نے خط میں جس ایشوکی طرف توجہ دلائی ہے وہ سنگین تو ہے ہی لیکن ملک میں جوتاثر ہے اس کے قریب ترین ہے ۔اور ایسے الزامات کو لوگ سچ ہی مانتے ہیں ۔اب کیا ان ججز کے الزامات کو بھی فوری سچ مان لیا جائے تو ایسا ممکن نہیں ہے کہ الزام ایک ہائی کورٹ کے چھ ججز نے لگایا ہے۔تاثر تک تو بات ٹھیک لگتی ہے لیکن گزشتہ ایک سال کے واقعات ان الزمات اورتاثر کی مخالفت کررہے ہیں۔اس خط کے بعد یہ کہا جارہا ہے کہ شاید یہ دباؤ پی ٹی آئی اور عمران خان صاحب کے مقدمات کے حوالے سے ہے تو ان کا جائزہ لے لیتے ہیں۔اگر تو یہ دباؤ والی بات ٹرائل کورٹس کے جج عائد کرتے تو بات میں کافی وزن ہوتا کیونکہ عمران خان کے کیسزجن میں ان کوسزائیں ہوئی ہیں وہ ٹرائل کورٹس میں چلے ہیں۔وہ چاہے توشہ خانہ ہو ۔ سائفر ہو یا غیر شرعی نکاح کا کیس ہو۔ٹرائل کورٹ کے جج ہمایوں دلاور ہوں یا ابوالحسنات ہوں انہوں نے عمران خا ن کے مقدمات میں ان کو سزائیں دی ہیں لیکن انہوں نے ایسی کوئی شکایت نہیں کی ۔اب ان پر کوئی دباؤ یا تو تھا ہی نہیں یا پھر ان ججز کو کسی دباؤ سے کوئی سروکار نہیں تھا تو پھر یہ سوال ہوگا کہ ہائی کورٹ کے ان ججز کو دباؤ کی شکایت کیوں پیدا ہوئی اور ایک سوال اور شدت سے سامنے آتاہے کہ ماتحت عدلیہ کے ججز تو شاید کمزور بھی ہوتے ہوں گے کہ وہ ایسے دباؤ کے سامنے کھڑے نہ ہوسکیں لیکن یہ ہائی کورٹ کے جج کے پاس تولامحدود اختیارات ہوتے ہیں یہ ججز اگر ملک کے وزیراعظم کو بلاسکتے ہیں تو پھر دباؤ ڈالنے والے کو کیوں بلاکر سرعام سزا نہیں دے سکتے؟
    میں عدلیہ کے معاملات میں مداخلت کے سخت خلاف ہوں کہ آئین یہی کہتا ہے اور آئین ایک جج کو یہ اختیار دیتا ہے کہ اگر ایسی کوئی صورتحال کا وہ سامنا کریں تو اس شخص کو عدالت بلالیں ۔آپ کو یاد ہوگا کہ ثاقب نثار جب چیف جسٹس تھے اور پورے ملک میں عدالت لے کر کھلے پھررہے تھے ۔ان سے نہ کوئی اسپتال محفوظ تھا نہ کوئی سرکاری ادارہ اور نہ کوئی تعلیمی ادارہ اس وقت کوئی شخص کسی مقدمے کے سلسلے میں ان کے گھر چلا گیا تھا اور ملاقات کرنا چاہی تھی تو اگلے دن چیف صاحب نے ان کو لاہور میں اپنی عدالت میں بلاکر باقاعدہ ذلیل کیا اور سزا الگ دی تھی ۔لیکن اسلام آباد ہائیکورٹ کے ان معزز ججز کے اعمال اس کے خلاف بلکہ متصادم ہیں۔
    آپ کویہ بھی یاد ہوگاکہ نومئی کو جب عمران خان صاحب گرفتار ہوئے تو ملک میں تو آگ لگی ہی تھی ۔سپریم کورٹ نے ان کو صرف ایک دن میں ہی پولیس ریمانڈ سے نکال لیا تھا۔اگر دباؤ ڈالنے والے موجود تھے تو بندیال صاحب یاتو بڑے دبنگ تھے یا پھر انہوں نے اس دباؤ کا ذکرکیے بغیر ہی ناکوں چنے چبوادیے ہوں گے۔اسی کیس میں بندیال صاحب نے عمران خان کو پولیس ریمانڈ سے اپنی مرسیڈیز میں بلاکر ریسٹ ہاؤس کا مہمان بنایا اور اسی اسلام آباد ہائی کورٹ کو حکم دیا کہ وہ پورے دودن وقت کو پیچھے کی طرف موڑ کر خان صاحب کو انصاف دیں۔ خان صاحب اندر تھے ۔جج صاحب نے ان کو ضمانت دی تو باہر پنجاب پولیس موجود تھی ۔عمران خان نے کہا کہ پولیس سے محفوظ بنائیں۔ جج صاحب نے پولیس کا حکم دیا کہ خبردار خان صاحب کو ہاتھ لگایا تو۔ خان صاحب نے پھر کہا کہ میں نے بنی گالا نہیں زمان پارک جانا ہے ۔جج صاحب پھر عدالت میں آئے اور تاریخ میں پہلی بار کسی ملزم کو ان مقدمات میں بھی ضمانت دی جو ابھی درج بھی نہیں ہوئے تھے۔یہ کیسا دباؤ تھا کہ جج صاحب پوری انتظامیہ سے عمران خان کو بچانے کے بلینکٹ احکامات دے رہے تھے اور کسی میں جرات نہ ہوئی کہ عمران خان کو ہاتھ بھی لگاسکے۔ عمران خان نو مئی کے باوجود زمان پارک میں بیٹھے رہے اور اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم لاگورہایہاں تک کہ توشہ خانہ میں ان کوسزا ہوئی جس کے بعد ان کو گرفتارکیاگیا۔
    دباؤ ہوتا تو دباؤ ڈالنے والے توشہ خانہ میں دی گئی سزا ہی برقراررکھوالیتے لیکن توشہ خانہ کی سزا پہلی پیشی میں ہی معطل کردی گئی ۔عدالت یہی تھی اسلام آباد ہائی کورٹ۔خط لکھنے والوں میں ایک جج بابر ستار بھی ہیں ۔ اسی جج کے سامنے جسٹس ثاقب نثارکے بیٹے کی آڈیولیکس کا کیس آیا جس میں ثاقب نثار کا بیٹا پی ٹی آئی کے ٹکٹس کی سودے بازی اور کروڑوں روپے وصول کرنے کی بات کررہے تھے ۔ دباؤ تو یہ کہتا ہے کہ اس کیس میں ملزم کو سزا ملے لیکن بابر ستار نے اس کیس میں جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے کو اسٹے دیا ۔اس کیس میں کرپشن اورلین دین پر کسی کو سزا دینے کی بجائے کیس کا سارا رخ انہی کی طرف موڑدیا جن پر دباؤ کاالزام انہوں نے لگایا ہے۔یہ کیس آج تک آگے نہیں بڑھ سکااور جج صاحب نے ملزم کو بلاکر آج تک نہیں پوچھا کہ کروڑ روپے کس چیز کے وصول کررہے تھے انہوں نے اوپر سے نیچے تک ایجنسیوں کے خلاف کیس بنادیا۔خط لکھنے والوں نے ہی عمران خان سے ملاقات کی ہر درخواست منظورکرکے اڈیالہ جیل کو پکنک سپاٹ بنادیا ۔ دباؤ ڈالنے والے اتنے بے بس تھے کہ عمران خان سے ملاقاتیں نہ رکواسکے؟پھر عمران خان صاحب کو جیل میں جتنا ریلیف اسلام آباد ہائی کورٹ نے دیا ہے کیا وہ کسی دباؤ میں ممکن تھا؟جسٹس بابر ستار شہریارآفریدی کو گرفتارکرنے پر ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو توہین عدالت میں سزا سناچکے ہیں ۔اس کے علاوہ یہی عدالت عمران خان صاحب کونومئی ، القادرٹرسٹ اور کئی دوسرے مقدمات میں ضمانتیں دے چکی ہے اور اس وقت بھی ان کی سزامعطلی کے تین کیسزچل رہے ہیں اور ان تینوں کیسزمیں ان کی سزائیں معطل ہوجائیں گی۔یہ حالات واقعات کے شواہد ہیں جو ججز کے خط میں لکھی گئی باتوں کی نفی میں اشارہ کرتے ہیں بلکہ اس سے تو لگتا ہے دباؤ عمران خان کو سزا دینے کا نہیں بلکہ ان کو ریلیف دینے کاتھا؟خیر جوڈیشل کمیشن کی تحقیقات میں مزید بہت سی چیزیں سامنے آئیں گی ممکن ہے خط لکھنے والے معزز ججز خط واپس لے لیں۔

    Khabrain News

      Keep Reading

      بغیر ٹانگوں والے روسی شخص نے ماؤنٹ ایورسٹ سر کر کے تاریخ رقم کر دی

      بکریوں کی انسانوں کے حوالے سے حیرت انگیز صلاحیت کا انکشاف

      جرمن نوجوان نے ایک منٹ میں سوا کلو شہد کھانے کا عالمی ریکارڈ بنا ڈالا

      تازہ ترین

      ہاکی ورلڈ کپ 2026: نیدرلینڈز، بیلجیم اور پاکستان نے اپنے اپنے قومی اسکواڈز کا اعلان کر دیا

      جماعتِ اسلامی کے امیر العظیم انتقال کر گئے

      عمران خان سے مذاکرات جاری، نبیل گبول کا بڑا دعویٰ

      فیفا ورلڈکپ: انگلینڈ کو شکست، ارجنٹائن فائنل کا ہیرو بن گیا

      حکومت کی طرف سے عوام کو ایک اور تحفہ پیٹرول پھر مہنگا

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.