Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Trending
    • مری: قربانی کیلئے لایا گیا بیل گہری کھائی میں جاگرا، موقع پر ذبح کرنا پڑا
    • قربانی کے گوشت کو زیادہ عرصے تک فریز کرنا کتنا محفوظ ہے؟ ماہرین نے اہم طبی حقائق بتا دیے
    • سوشل میڈیا نوجوانوں کیلئے سگریٹ نوشی جتنا خطرناک قرار!
    • مسلح افواج کے سربراہان کی قوم کو عیدالاضحیٰ کی مبارکباد
    • آسٹریلوی کپتان مچل مارش پاکستان کیخلاف ون ڈے سیریز سے باہر
    • معروف بھارتی اداکار انتقال کرگئے
    • صدر زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر رہنماؤں نے نماز عید کہاں ادا کی؟
    • گوگل ماہرین کی ’زیرو-ڈے‘ ایکسپلائٹ سے متعلق تشویشناک رپورٹ پیش
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • سنڈے میگزین
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Khabrain Group Pakistan
    Home»دلچسپ و عجیب»جھارکھنڈ کی ‘ہو’ کمیونٹی میں شادی کی انوکھی رسم، لڑکی کو عزت دینے کا خاص طریقہ
    دلچسپ و عجیب

    جھارکھنڈ کی ‘ہو’ کمیونٹی میں شادی کی انوکھی رسم، لڑکی کو عزت دینے کا خاص طریقہ

    Khabrain NewsBy Khabrain Newsفروری 5, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    رسم تو یہی ہے کہ دولہا بارات لے کر آتا ہے اور دلہن لے کر جاتا ہے۔ تحفے کی صورت میں جہیز بھی لے جاتا ہے۔ مگر  بھارتی ریاست جھارکھنڈ کے آدیواسی کمیونٹی کی ایک روایت حیران کن ہے۔ یہاں سب کچھ الٹا ہے۔ کھونٹی ضلع کے ‘ہو’ کمیونٹی میں دلہن بارات لے کر آتی ہے اور جہیز بھی لیتی ہے۔

    ہو قبائل کے رکن ہیرا بتاتے ہیں کہ ہمارے یہاں دولہا نہیں، بلکہ دلہن کو جہیز دیا جاتا ہے۔ دولہا بارات لے کر نہیں، بلکہ دلہن بارات لے کر آتی ہے۔

    کھونٹی کے اس آدیواسی کمیونٹی میں برسوں سے یہ روایت چلتی آ رہی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سب سے خاص بات یہ ہے کہ ہمارے ہو کمیونٹی کی شادی میں لڑکی والوں کو جہیز نہیں دینا ہوتا ہے۔

    بلکہ دولہا فریق ہی دلہن کے خاندان والوں کو ایک جوڑا بیل، گائے اور نقد رقم دیتا ہے۔ اتنا جہیز دینا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ جو دینا چاہے لڑکے والے دے سکتے ہیں۔

    دلہن بارات لے کر آتی ہے۔ شادی کے بعد دوسرے دن بارات واپس لوٹ جاتی ہے، جبکہ دلہن اپنے شوہر کے گھر میں ہی رک جاتی ہے۔ رخصتی کی یہ روایت بھی کافی دلچسپ ہوتی ہے۔

    آدیواسی ‘ہو’ سماج کے ‘آندی’ یعنی شادی میں لڑکا والے لڑکی والوں کو قیمت ادا کرتے ہیں ۔ لڑکا والوں کی جانب سے لڑکی والوں کو کنیا دھن دینے کا رواج ہے۔

    اس رسم کو ‘گونوںگ’ کہتے ہیں۔ اس میں ضروری طور پر ایک جوڑا بیل اور 101 روپے نقد کے ساتھ کہیں کہیں ایک گائے بھی لڑکی والوں کو دینے کا رواج ہے۔

    ہیرا کے مطابق ہمارے آباء و اجداد کہتے ہیں کہ معاشرے میں لڑکوں سے زیادہ لڑکیوں کو عزت دی جاتی ہے۔ معاشرے میں لڑکیوں کو اہمیت دی جاتی ہے۔

    ہم لڑکیوں یا پھر خواتین کو دیوی کی شکل میں پوجتے ہیں۔ یہ زندگی دینے والی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں عورتوں کا درجہ بہت بلند ہے۔ اس لیے یہ رسم کہیں نہ کہیں انہیں عزت اور احترام دینے کے لئے ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Khabrain News

    Related Posts

    سائنسدانوں نے انٹار کٹیکا کے ایک راز کو دریافت کرلیا

    مئی 26, 2026

    آخر بیشتر افراد رائٹ ہینڈڈ کیوں ہوتے ہیں؟ نئی تحقیق میں وجہ سامنے آگئی

    مئی 24, 2026

    امریکا نے اڑن طشتریوں سے متعلق خفیہ فائلوں کا دوسرا حصہ جاری کردیا

    مئی 23, 2026

    Comments are closed.




    Facebook X (Twitter) Instagram Pinterest
    • کالم
    • صحت
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • بزنس
    • شوبز
    • کھیل
    • انٹر نیشنل
    • پاکستان
    © 2026 ThemeSphere. Designed by ThemeSphere.

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.