مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے جدید پلیٹ فارمز جیسے چیٹ جی پی ٹی، گروک اور دیگر تصویر سازی کی ایپلی کیشنز نے اینیمیٹڈ تصاویر بنانے کے فیچرز متعارف کروا دیے ہیں، جس سے صارفین چند سیکنڈز میں جاپان کے معروف اینیمیٹڈ اسٹوڈیو ’جیبلی اسٹوڈیو‘ (Studio Ghibli) کے انداز میں تصاویر بنا سکتے ہیں۔
چیٹ جی پی ٹی کا نیا اینیمیشن فیچر
چیٹ جی پی ٹی نے اپنے صارفین کو جیبلی اسٹوڈیو طرز کی تصاویر بنانے کے مفت فیچر تک محدود رسائی دی ہے۔ صارفین روزانہ تین تصاویر کو اس منفرد اینیمیٹڈ انداز میں تبدیل کر سکتے ہیں۔
یہی نہیں، بلکہ دیگر اے آئی پلیٹ فارمز اور مختلف ایپلی کیشنز نے بھی یہ فیچر فراہم کر دیا ہے، جس کے ذریعے صارفین اپنی عام تصاویر کو جیبلی اسٹوڈیو کے دلکش اور منفرد اینیمیشن اسٹائل میں تبدیل کر سکتے ہیں۔
اینیمیٹڈ تصاویر بنانا ہوا مزید آسان
چیٹ جی پی ٹی، گروک اور دیگر اے آئی پلیٹ فارمز پر اینیمیٹڈ تصاویر بنانے کا عمل نہایت آسان ہو چکا ہے۔ صارفین کو صرف اپنی کوئی بھی تصویر اپ لوڈ کرنی ہوتی ہے اور ہدایت دینی ہوتی ہے کہ "اسے جیبلی اسٹوڈیو کے انداز میں تبدیل کریں” (Turn this image in Studio Ghibli theme)۔ چند سیکنڈز میں تصویر تبدیل ہو کر ایک خوبصورت اینیمیٹڈ آرٹ میں ڈھل جاتی ہے۔
کن پلیٹ فارمز پر دستیاب ہے؟
یہ منفرد فیچر اب چیٹ جی پی ٹی، گروک، پرزما، لونا پک، فوٹوفونیا، فلکس، بی فنکے، فوٹر اور ڈیپ ڈریم جنریٹر سمیت کئی ویب سائٹس اور ایپلی کیشنز پر دستیاب ہے۔
ڈیجیٹل آرٹ میں انقلاب یا خطرہ؟
جہاں ایک طرف یہ فیچر دنیا بھر میں مقبول ہو رہا ہے، وہیں ماہرین اس کے ممکنہ خطرات پر بھی خبردار کر رہے ہیں۔ بعض ماہرین کے مطابق ذاتی تصاویر کو اے آئی پر اپ لوڈ کرنے سے ان کے غلط استعمال کا خدشہ موجود ہے، جس سے پرائیویسی اور سیکیورٹی کے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔
جیبلی اسٹوڈیو جاپان کا ایک مشہور اینیمیٹڈ فلم اور کتاب ساز ادارہ ہے، جو 1985 میں قائم کیا گیا تھا۔ یہ اسٹوڈیو اپنی منفرد اور جادوئی اینیمیشنز کی بدولت دنیا بھر میں مقبول ہے اور اس کے طرز پر تصاویر بنانے کا رجحان بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

