لاہور (خبر نگار) واسا لاہور کے کروڑوں روپے مالیت کے60 انچ ٹرنک سیور منصوبہ، صدر سے جوڑے پل تا ضرار شہید روڈ میں مبینہ طور پر غیر معیاری، ٹوٹے اور واسا کی اپنی انسپکشن ٹیم کی جانب سے مسترد شدہ پائپ استعمال کیے جانے کا سنگین انکشاف ہوا ہے۔ درخواست گزار کی شکایت پر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ لاہور ریجن-نے معاملہ واسا لاہور کو رپورٹ کے لیے بھجوا دیا جس کے بعد متعلقہ افسران سے ریکارڈ اور تحریری دفاع طلب کرتے ہوئے باقاعدہ انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔ درخواست گزار نے اینٹی کرپشن کو دی گئی درخواست میں الزام عائد کیا کہ ایکسین عزیز بھٹی ٹائون سلیمان احمد مرزا، ایس ڈی او، سب انجینئر اور متعلقہ ٹھیکیدار نے مبینہ ملی بھگت سے کروڑوں روپے کے منصوبے کے لیے پائپ کسی منظور شدہ یا معیاری فرم سے خریدنے کے بجائے مبینہ طور پر خود تیار کروائے۔ درخواست کے مطابق پائپوں میں سریا اور سیمنٹ مقررہ اسپیسفکیشن کے مطابق استعمال نہ ہونے کے باعث لوڈنگ کے دوران ہی متعدد پائپ ٹوٹ گئے اور ان میں دراڑیں پڑ گئیں۔ درخواست میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ واسا کی انسپکشن ٹیم نے ان پائپوں کو باقاعدہ Rejected قرار دے کر ان پر مسترد تحریر کر دیا تھا تاہم اس کے باوجود مبینہ طور پر راتوں رات انہی مسترد شدہ اور ٹوٹے پھوٹے پائپوں کو زمین میں نصب کرکے اوپر مٹی ڈال دی گئی۔ درخواست گزار کے مطابق ناقص پائپوں میں ممکنہ لیکیج کی صورت میں گندے پانی کے پینے کے پانی میں شامل ہونے سے شہریوں کی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں جبکہ ضرار شہید روڈ پر موجود حساس عمارتوں کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ درخواست گزار نے صدر گول چکر سے وی آئی پی سٹور تک موقع کا اچانک معائنہ کرکے الزامات کی تصدیق کرنے اور انکوائری مکمل ہونے تک ٹھیکیدار کو کسی قسم کی ادائیگی روکنے کی استدعا کی۔ دستاویزات کے مطابق اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ لاہور ریجن-A نے شکایت کا جائزہ لینے کے بعد مجاز اتھارٹی کے فیصلے پر اسے واسا لاہور کے مینجنگ ڈائریکٹر کو ارسال کرتے ہوئے شکایت میں موجود مندرجات پر رپورٹ طلب کی۔ بعدازاں واسا لاہور کے ڈائریکٹر (O&M) گنج بخش ٹائون نے 29 ستمبر2026 ء کو ایکسین سلیمان احمد مرزا، ایس ڈی او عمر انور اور سب انجینئر قیصر عدنان کو انکوائری کارروائی کے لیے طلب کرتے ہوئے متعلقہ ریکارڈ اور تحریری دفاع ساتھ لانے کی ہدایت کی۔ انکوائری ضرار شہید روڈ کے منصوبے سے متعلق شکایت پر کی جارہی ہے۔ یوں کروڑوں روپے کے مسترد شدہ پائپ دوبارہ زمین میں دبائے جانے، مبینہ ناقص میٹریل کے استعمال اور سرکاری خزانے سے ممکنہ ادائیگی کے الزامات نے واسا کے منصوبے کی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ اب اصل امتحان یہ ہے کہ انکوائری میں مسترد شدہ پائپ کس نے منظور کیے، دوبارہ کس کے حکم پر نصب ہوئے، معیار کی نگرانی کس افسر کی ذمہ داری تھی اور ٹھیکیدار کو ادائیگی ہوئی یا نہیں؟ ان سوالات کے جوابات سامنے آنا باقی ہیں۔
