ملتان ( نامہ نگار خصوصی)آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی ( اوگرا)ملک میں ایل پی جی پلانٹ کمپنیوں کی بلیک مارکیٹنگ کی روک تھام بارے کوئی پالیسی وضع کرنے میں ناکام۔اضلاع و ڈویژن کی سطح پر اوگرا دفاتر کا عدم قیام اور اوگرا ٹیمیں آن فیلڈ نہ ہونا ایل پی جی کی کھلے عام بلیک مارکیٹنگ کو عروج دینے کا سبب بنا ہے۔اکتوبر 2026ء کے لئے اوگرا کی جانب سے مقرر کردہ سرکاری قیمت 279.34 روپے فی کلو ہے مگر اس کے برعکس مارکیٹ میں ایل پی جی 440 سے 500 روپے فی کلو تک من مانے نرخوں پر فروخت ہو رہی ہے۔ اکتوبر 2026ء کے لئے سرکاری نرخوں میں بھی 20 روپے فی کلو تک بڑا جمپ لگا اور اوگرا نوٹیفکیشن کے مطابق ایل پی جی کی نئی سرکاری قیمت بڑھ کر 279.34 روپے فی کلو ہوگئی اور 11.8 کلو گرام پر مشتمل گھریلو سلنڈر کی قیمت 3,296.23 روپے مقرر کی گئی ہے۔مگرمارکیٹ میں دکانوں اور سیلز پوائنٹس پر ایل پی جی دھڑلے سے 440تا 500 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے جو کہ سرکاری نرخوں سے تقریباً دگنی قیمت ہے۔گھروں میں سوئی گیس کی لوڈ شیڈنگ اور چولہوں میں گیس پریشر کی کمی کے باعث شہری مہنگی ایل پی جی خریدنے پر مجبور ہیں، جس سے طوفانی مہنگائی کی چکی میں پسے ان کا ماہانہ گھریلو بجٹ شدید درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔ضلعی سطح پر ایل پی جی پلانٹس کی چیکنگ میں اوگرا افسران کا موجود ہونا قانونی طور پر ضروری ہے اور بلیک مارکیٹنگ کا دھندہ پلانٹ مالکان اور اوگرا ممبران کے باہمی گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے اور اس گٹھ جوڑ میں ایل پی جی ڈیلرز اور ضلعی انتظامیہ کے افسران بھی برابر کی حصہ دار بن گئے ہیں۔اب مارکیٹ میں ایل پی جی کی ماہانہ قیمت فروخت پلانٹس مالکان مقرر کرتے ہیں اور عملاً اوگرا کا ماہانہ نرخنامہ مذاق کے سوا کچھ نہیں۔ڈیلرز پرچون قیمت اوگرا نرخنامہ کے بجائے پلانٹس مالکان کی مقرر کردہ لسٹ پر شہریوں سے وصول کررہے ہیں۔شہریوں نے صورتحال پر احتجاج کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے ایل پی جی کی بلیک مارکیٹنگ کے سدباب کے لئے باقاعدہ پالیسی وضع کرنے کا مطالبہ کیا یے
ایل پی جی
