پاکستان اور روس پہلی براہِ راست مال بردار ریلوے رابطہ سروسز قائم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں، جن کے تحت ماسکو سے فیصل آباد اور کراچی تک ریل رابطے قائم کیے جانے کی تجویز ہے۔ ممکنہ طور پر بیلاروس بھی اس منصوبے میں شریک ہو سکتا ہے۔
مجوزہ ریلوے روٹس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت اور ٹرانسپورٹ روابط کو فروغ دینا ہے۔ علاقائی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والی تاخیر کے بعد منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے مشاورت جاری ہے۔
پاکستان اور روس زراعت کے شعبے میں بھی تعاون بڑھانے پر غور کر رہے ہیں، جس میں جدید زرعی مشینری، کھاد، زرعی ادویات، ویکسینز اور مویشیوں کی صحت سے متعلق ٹیکنالوجی شامل ہیں۔
حکام کے مطابق دونوں ممالک کا مقصد باہمی تعلقات کو عملی منصوبوں میں تبدیل کرنا ہے تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ، اخراجات میں کمی اور غذائی تحفظ کو مضبوط بنایا جا سکے۔ مجوزہ ریلوے کوریڈورز کے انتظامات کو حتمی شکل دینے اور ان کے ممکنہ تجارتی صارفین کی نشاندہی کے لیے بات چیت جاری ہے۔

