پاکستان کو آبنائے ہرمز کے گرد کشیدگی کے باعث کئی ہفتوں کی رکاوٹ کے بعد قطر سے ایل این جی کی نئی کھیپ موصول ہوگئی۔ تقریباً 141,550 مکعب میٹر ایل این جی پر مشتمل یہ کھیپ پاکستان گیس پورٹ ٹرمینل پہنچ گئی، جو پاکستان اور قطر کے درمیان طویل مدتی حکومتی معاہدے کے تحت درآمد کی گئی ہے۔
حکام کے مطابق اس کھیپ کی قیمت برینٹ کی قیمت کے 13.37 فیصد کے برابر ہے، جو موجودہ اسپاٹ مارکیٹ میں دستیاب ایل این جی کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔
یہ ترسیل قطر انرجی کی جانب سے فورس میجر کے اعلان کے بعد شیڈول سپلائی میں آنے والی رکاوٹوں کے بعد ہوئی ہے۔ پاکستان نے قلت پوری کرنے کے لیے جولائی میں ایک اسپاٹ ایل این جی کھیپ بھی درآمد کی تھی۔
تازہ کھیپ کی آمد کے بعد مارچ 2026 سے پاکستان کی ایل این جی درآمدات کی مجموعی تعداد 14 کھیپوں تک پہنچ گئی ہے۔

