پاکستان کو باسمتی چاول کے نام اور عالمی تجارتی شناخت کے حوالے سے بھارت کے خلاف ایک اہم قانونی پیش رفت میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ معاملہ آسٹریلیا میں بھارت کی Agricultural and Processed Food Products Export Development Authority (APEDA) کی جانب سے “BASMATI” کو certification trademark کے طور پر رجسٹر کرانے کی کوشش سے متعلق تھا۔
آسٹریلوی ٹریڈ مارکس حکام کے سامنے APEDA نے 2019 میں “BASMATI” اور ایک متعلقہ ڈیوائس مارک کے لیے درخواستیں دائر کی تھیں۔ بھارتی ادارے کا مؤقف تھا کہ باسمتی ایک جغرافیائی شناخت (GI) ہے اور اسے بھارتی باسمتی چاول کی شناخت کے لیے تحفظ ملنا چاہیے۔ تاہم آسٹریلوی فیصلے میں BASMATI کے لفظی certification trademark کو رجسٹریشن کے لیے مسترد کر دیا گیا۔
یہ معاملہ اس لیے اہم ہے کیونکہ باسمتی چاول کی پیداوار اور اس کے جغرافیائی تشخص پر پاکستان اور بھارت دونوں کے دعوے ہیں۔ بھارت نے اپنے ہاں باسمتی کو GI کے طور پر رجسٹر کرایا ہوا ہے، جبکہ پاکستان بھی باسمتی چاول کی پیداوار اور برآمد میں اہم ملک ہے۔ بھارتی عدالت کے ایک ریکارڈ کے مطابق بھارت میں باسمتی کو 2016 میں GI رجسٹریشن حاصل ہوئی تھی۔
آسٹریلیا میں بھارتی ادارے کی درخواست کا مسترد ہونا بھارت کو “Basmati” نام پر عالمی سطح پر خصوصی ملکیتی حق حاصل کرنے سے متعلق ایک اہم رکاوٹ سمجھا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ فیصلہ بذاتِ خود یہ قرار نہیں دیتا کہ باسمتی صرف پاکستان کی ملکیت ہے یا آسٹریلیا نے باسمتی کا خصوصی GI پاکستان کے نام کر دیا ہے۔ دستیاب آسٹریلوی فیصلے کے مطابق اصل معاملہ بھارتی ادارے کی certification trademark application سے متعلق تھا۔
اس پیش رفت سے پاکستان کے باسمتی چاول کے برآمد کنندگان کو عالمی منڈی میں اپنے روایتی باسمتی نام اور شناخت کے تحفظ کے لیے ایک اہم قانونی حوالہ ملتا ہے۔ باسمتی کی عالمی شناخت اور GI حقوق کا معاملہ مستقبل میں بھی مختلف ممالک میں قانونی اور تجارتی سطح پر زیر بحث رہنے کا امکان ہے۔

