پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر باسط علی نے مائیک ہیسن کو ریڈ بال کوچ مقرر کیے جانے کے فیصلے پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے مذاق قرار دے دیا ہے۔
باسط علی نے سوال اٹھایا کہ مائیک ہیسن کو صرف پانچ ٹیسٹ میچز کے بعد کوچنگ ذمہ داری سے ہٹانے کا فیصلہ کیوں کیا گیا، جبکہ ٹیم کو مسلسل کارکردگی بہتر بنانے کے لیے وقت درکار تھا۔
انہوں نے سلیکشن کمیٹی کے فیصلوں پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دوران ٹیم میں ایسی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جن کی منطق سمجھ سے بالاتر ہے۔
سابق کرکٹر کے مطابق ریڈ بال کرکٹ میں مستقل مزاجی اور طویل مدتی منصوبہ بندی ضروری ہے، تاہم موجودہ فیصلوں سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ٹیم مینجمنٹ بار بار اپنی حکمت عملی تبدیل کر رہی ہے۔
باسط علی نے کہا کہ اگر کوچ کو چند ہی ٹیسٹ میچز کے بعد ہٹا دیا جائے اور اس کے بعد دوبارہ نئی تقرری کی جائے تو اس سے ٹیم کی تیاری اور کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مائیک ہیسن کی تقرری اور مجموعی سلیکشن پالیسی پر نظرثانی کا مطالبہ بھی کیا۔

