ایران کے مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی نے کہا ہے کہ امریکی پابندیوں کے باوجود ایران کے پاس کافی زرمبادلہ موجود ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا تھا کہ ایران اقتصادی جنگ میں نقصان اٹھانے کے باعث سخت ردعمل دے رہا ہے۔ عبدالناصر ہمتی نے کہا کہ مرکزی بینک حالیہ اتار چڑھاؤ کو کم کرنے کے لیے زرمبادلہ کی مارکیٹ میں 2 ارب ڈالر تک فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ امریکی صدر کو واضح طور پر بتانا چاہتے ہیں کہ ایران کے پاس زرمبادلہ موجود ہے اور یہ ضرورت کے لیے کافی ہے۔ہمتی کے بیان کا مقصد امریکی پابندیوں اور بحری ناکہ بندی کے باعث ایرانی معیشت کو درپیش مشکلات کے درمیان مارکیٹ کو اعتماد دلانا بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان سمیت بعض اعلیٰ حکام پہلے ہی معیشت کو درپیش بڑھتے ہوئے مسائل کی نشاندہی کر چکے ہیں۔مرکزی بینک کے گورنر نے مزید بتایا کہ بینک مسلسل بیرونِ ملک سے واجب الادا زرمبادلہ وصول کر رہا ہے، جبکہ ملک کے اندر بھی اس کے پاس ذخائر اور دیگر وسائل موجود ہیں۔ تاہم انہوں نے ان وسائل کی مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
امریکی پابندیوں کے باوجود غیر ملکی کرنسی وافر مقدار میں موجود، ایران کا دعویٰ

