پاکستان کے شمالی علاقے سیراں ویلی، ضلع مانسہرہ میں 4 ہزار 60 میٹر بلند پہاڑ موسیٰ کا مصلیٰ سے واپسی کے دوران لاپتہ ہونے والے آئرش نژاد کوہ پیما الیگزینڈر مارک ہیرس کی لاش برآمد کرلی گئی۔
30 سالہ الیگزینڈر ہیرس دوہری آئرش اور برطانوی شہریت رکھتے تھے اور پاکستان میں مقیم تھے۔ وہ اپنے ساتھی برطانوی شہری الون ڈیوڈ کوپر کلیڈوین کے ہمراہ موسیٰ کا مصلیٰ کی چوٹی پر گئے تھے۔ دونوں نے واپسی پر الگ الگ راستے اختیار کیے اور مانڈا چُھچا میں دوبارہ ملنے کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم ساتھی تو مقررہ مقام پر پہنچ گئے لیکن الیگزینڈر وہاں نہیں پہنچے۔
الکسانڈر کے لاپتہ ہونے کے بعد پولیس، ریسکیو 1122، محکمہ جنگلات، مقامی افراد اور رضاکاروں سمیت تقریباً 200 افراد پر مشتمل سرچ آپریشن شروع کیا گیا۔ دشوار گزار پہاڑی علاقے، بارش، دھند اور کم حدِ نگاہ کے باعث امدادی ٹیموں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔
تین روز تک جاری رہنے والے سرچ آپریشن کے دوران الیگزینڈر کی لاش ایک گہری کھائی میں ڈرون کی مدد سے تلاش کی گئی۔ بعد ازاں امدادی ٹیموں نے لاش کو وہاں سے نکال لیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق خراب موسم کے دوران ممکنہ طور پر وہ راستہ بھٹک گئے اور گہری کھائی میں گر گئے، تاہم واقعے کی مکمل وجوہات کی تحقیقات جاری ہیں۔
پولیس کے مطابق الیگزینڈر ایک تجربہ کار ٹریکر اور ٹریل رنر تھے اور اس سے قبل بھی موسیٰ کا مصلیٰ سمیت پاکستان کے مختلف پہاڑی علاقوں میں ٹریکنگ کرچکے تھے۔
الیگزینڈر اسلام آباد میں برطانوی عالمی مشاورتی ادارے ایڈم اسمتھ انٹرنیشنل سے وابستہ تھے۔ ادارے نے ان کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان، اس کے عوام اور قدرتی حسن سے گہرا لگاؤ رکھتے تھے اور پاکستان میں قیام کے دوران اردو بھی سیکھ رہے تھے۔
ادارے نے سرچ آپریشن میں حصہ لینے والے پولیس اہلکاروں، ریسکیو ٹیموں، مقامی افراد، رضاکاروں، محکمہ جنگلات، ان کے ٹریل رننگ ساتھیوں اور حکومت پاکستان کا بھی شکریہ ادا کیا۔

