امریکی کمپنی ٹیسلا نے اپنی طویل انتظار کے بعد تیار کی جانے والی سائبر کیب (Cybercab) روبوٹیکسی سروس کا محدود آغاز کر دیا ہے۔ یہ مکمل خودکار دو نشستوں والی برقی گاڑی ہے جس میں نہ اسٹیئرنگ وہیل ہے، نہ ایکسیلیریٹر اور بریک پیڈلز۔
ٹیسلا نے سائبر کیب کی محدود کمرشل سروس آسٹن، ٹیکساس کے مخصوص علاقوں میں شروع کی ہے۔ صارفین ٹیسلا کی روبوٹیکسی ایپ کے ذریعے گاڑی بُک کر سکتے ہیں۔ کمپنی کا مقصد مستقبل میں ان گاڑیوں کو مزید شہروں اور علاقوں تک پھیلانا ہے۔
سائبر کیب میں صرف دو مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے جبکہ گاڑی کا ڈیزائن مکمل طور پر خودکار سفر کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ ٹیسلا کے مطابق گاڑی اپنے خودکار ڈرائیونگ سسٹم اور کیمروں کی مدد سے سڑک پر سفر کرے گی، جبکہ روایتی انسانی کنٹرولز کی ضرورت نہیں ہوگی۔
تاہم لانچ کے فوراً بعد امریکی نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن (NHTSA) نے ٹیسلا کے سائبر کیب کی جانچ شروع کر دی ہے۔ ادارہ تقریباً 1,000 سائبر کیب گاڑیوں کی تصدیق اور اس عمل کا جائزہ لے رہا ہے جس کے تحت ٹیسلا نے گاڑیوں کو وفاقی حفاظتی معیار پر پورا اترنے والا قرار دیا۔
NHTSA کے مطابق سائبر کیب میں اسٹیئرنگ وہیل، بریک پیڈل، ایکسیلیریٹر پیڈل اور سائیڈ مررز جیسے روایتی آلات موجود نہیں، جن سے متعلق موجودہ امریکی حفاظتی قوانین میں تقاضے موجود ہیں۔ اس لیے ریگولیٹر یہ جانچ رہا ہے کہ ٹیسلا نے کن بنیادوں پر ان گاڑیوں کو موجودہ قوانین کے مطابق قرار دیا۔
ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک خودکار گاڑیوں کو کمپنی کے مستقبل کے کاروبار کا اہم حصہ قرار دے چکے ہیں۔ سائبر کیب کو بڑے پیمانے پر روبوٹیکسی نیٹ ورک کا حصہ بنانے کا منصوبہ ہے، جبکہ مسک ماضی میں اس گاڑی کی قیمت تقریباً 30 ہزار ڈالر رکھنے کا ہدف بھی بتا چکے ہیں۔
اہم بات: سائبر کیب کا موجودہ آغاز مکمل ملک گیر سروس نہیں بلکہ آسٹن میں محدود کمرشل تعیناتی ہے، اور امریکی حفاظتی ادارے کی تازہ جانچ اس کے مستقبل کے بڑے پیمانے پر استعمال کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے

