ایرانی میڈیا کے مطابق 5 ستمبر 2026 کو خَرگ جزیرے کے قریب ایک چھوٹے ایرانی آئل ٹینکر کو امریکی میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ٹینکر خَرگ جزیرے سے تقریباً 6 بحری میل دور لنگر انداز تھا۔
رپورٹس کے مطابق ٹینکر پر چار امریکی میزائل داغے گئے۔ ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ حملے کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم عملے کو بحری جہاز سے نکالا جا رہا تھا۔ بعض ایرانی ذرائع نے جہاز کو معمولی نقصان پہنچنے کی بھی اطلاع دی ہے۔
واقعے کے وقت خَرگ جزیرے کے اطراف متعدد دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔ ایران کی فارس نیوز ایجنسی نے دھماکوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی طور پر علاقے میں دھوئیں کے آثار نظر نہیں آئے اور دھماکوں کی اصل وجہ واضح نہیں تھی۔
خَرگ جزیرہ ایران کے لیے انتہائی اہم تیل برآمدی مرکز ہے اور جنگ سے قبل ایران کی تقریباً 90 فیصد خام تیل کی برآمدات اسی راستے سے ہوتی تھیں۔ اس لیے جزیرے کے قریب کسی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا جانا ایران کی تیل کی ترسیل اور عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر رہی ہے اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی بھی دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکی کارروائیوں اور ایرانی جوابی حملوں کے باعث خطے میں مزید کشیدگی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
تاہم اہم بات یہ ہے کہ امریکی حکام نے تاحال اس مخصوص ٹینکر پر حملے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، اس لیے حملے کی تفصیلات فی الحال ایرانی میڈیا کی رپورٹس پر مبنی ہیں۔

