نیپال میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقوں میں بھی اسی نوعیت کی اچانک اور تباہ کن سیلابی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔ خاص طور پر گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں 3 ہزار سے زائد گلیشیئر جھیلیں موجود ہیں، جن میں سے بعض کے پھٹنے یا پہاڑی علاقوں میں برف، چٹان اور مٹی کے اچانک تودے گرنے سے شدید سیلاب آسکتا ہے۔ ایسے واقعات میں روایتی سیلاب کی طرح طویل پیشگی وارننگ ملنا ضروری نہیں ہوتا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی، بڑھتا ہوا درجہ حرارت، گلیشیئرز کا پگھلاؤ، غیر معمولی بارشیں اور پہاڑی ڈھلوانوں کا غیر مستحکم ہونا خطرات میں اضافہ کر رہے ہیں۔ ہندوکش ہمالیہ کے خطے میں خشک وقفوں کے بعد اچانک انتہائی شدید بارشیں فلیش فلڈ، لینڈ سلائیڈنگ اور گلیشیئر سے متعلق تباہ کاریوں کو جنم دے سکتی ہیں۔
ماہرین نے واضح کیا ہے کہ کم بارش کا مطلب کم سیلابی خطرہ نہیں۔ مختصر دورانیے میں ہونے والی شدید بارش، گلیشیئر پگھلنے اور غیر مستحکم پہاڑی ڈھلوانوں کے ایک ساتھ اثرات بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بن سکتے ہیں۔
نیپال میں 26 اگست کو آنے والے تباہ کن سیلاب نے اس خطرے کو نمایاں کردیا۔ وہاں برف اور چٹان کے بڑے پیمانے پر ٹوٹنے سے دریائی راستہ عارضی طور پر بند ہوا اور پھر اچانک پانی کا انتہائی طاقتور ریلا نیچے کی آبادیوں کی طرف بڑھا۔ ماہرین کے مطابق یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ پہاڑی علاقوں میں مختلف قدرتی خطرات ایک دوسرے سے جڑ کر تباہ کن صورت اختیار کرسکتے ہیں۔
پاکستان کے لیے ماہرین نے ابتدائی وارننگ سسٹم، گلیشیئر جھیلوں کی مسلسل نگرانی، سیٹلائٹ اور ریموٹ سینسنگ ٹیکنالوجی، دریا کے بہاؤ کی نگرانی اور حساس آبادیوں کے لیے فوری انخلا کے منصوبوں کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔
تاہم یہ بات واضح رہے کہ دستیاب ماہرین کی رپورٹس پاکستان میں کسی مخصوص وقت پر نیپال جیسی تباہی کی پیش گوئی نہیں کر رہیں؛ ان کا انتباہ یہ ہے کہ پاکستان سمیت پورے ہندوکش ہمالیہ خطے میں ایسے اچانک پہاڑی سیلابوں کا خطرہ موجود ہے اور اس کے لیے بہتر تیاری ضروری ہے۔

