انڈونیشیا میں ماؤنٹ اناک کراکاٹوا کے پھٹنے کے بعد آتش فشانی راکھ کے باعث فضائی سفر شدید متاثر ہوگیا، جس کے نتیجے میں جکارتہ کے مرکزی سوئیکارنو ہٹا انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت متعدد ہوائی اڈوں پر آپریشن عارضی طور پر معطل کرنا پڑا۔
آتش فشاں سے نکلنے والی راکھ فضا میں پھیلنے کے باعث ایمریٹس نے 7 ستمبر کو دبئی اور جکارتہ کے درمیان چار پروازیں منسوخ کر دیں۔ متاثرہ پروازوں میں EK356، EK358، EK357 اور EK359 شامل ہیں۔ ایئرلائن نے مسافروں کو روانگی سے قبل پرواز کی تازہ صورتحال چیک کرنے کی ہدایت کی ہے۔
دوسری جانب قطر ایئرویز نے بھی دوحہ اور جکارتہ کے درمیان چار پروازیں منسوخ کردی ہیں۔ ایئرلائن کے مطابق QR954، QR955، QR956 اور QR957 پروازیں 7 ستمبر کو آپریٹ نہیں ہوں گی۔
رپورٹس کے مطابق ماؤنٹ اناک کراکاٹوا میں جمعہ سے سرگرمی جاری ہے جبکہ ہفتے اور اتوار کو متعدد بار دھماکے ہوئے۔ آتش فشاں سے نکلنے والی راکھ کے بادل ہزاروں فٹ بلندی تک پہنچ گئے، جس سے طیاروں کے انجنوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ پیدا ہوگیا۔
انڈونیشیا میں آتش فشانی راکھ کے باعث سات سے آٹھ ہوائی اڈوں کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور ہزاروں پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہوئیں۔ تازہ رپورٹس کے مطابق مجموعی طور پر 2,300 سے زائد پروازیں متاثر جبکہ 2 لاکھ 70 ہزار سے زیادہ مسافر متاثر ہوئے ہیں۔
حکام نے شہریوں کو آتش فشانی راکھ سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور بیرونِ خانہ سرگرمیاں محدود رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔ صورتحال مسلسل مانیٹر کی جا رہی ہے جبکہ ایئرلائنز نے مسافروں سے کہا ہے کہ ایئرپورٹ جانے سے پہلے اپنی پرواز کا اسٹیٹس ضرور چیک کریں۔
آتش فشاں کی سرگرمی نے نہ صرف فضائی سفر بلکہ جکارتہ اور قریبی علاقوں میں معمولاتِ زندگی کو بھی متاثر کیا ہے۔

