سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور سینیٹر سیف اللہ ابڑو کے درمیان شدید تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، جس کے باعث اجلاس کا ماحول کشیدہ ہوگیا۔
اجلاس چیئرمین کمیٹی فیصل سلیم رحمان کی زیرِ صدارت ہوا، جس میں قانون سازی سمیت بلیو پاسپورٹس کے اجرا سے متعلق امور پر بھی بحث کی گئی۔ تلخی اس وقت بڑھی جب سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے طلال چوہدری کے رویے پر اعتراض کیا۔
سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ "تمیز سے بات کریں، اس طرح کا رویہ نہیں چلے گا” اور کہا کہ سینیٹرز کسی کے ملازم نہیں ہیں۔ اس پر طلال چوہدری نے جواب دیا کہ "میں بھی آپ کا ملازم نہیں ہوں، یہاں جو بھی بات ہوگی وہ آئین اور قانون کے مطابق ہوگی۔”
دونوں کے درمیان بحث کے دوران چیئرمین کمیٹی فیصل سلیم رحمان نے مداخلت کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں کو خاموش رہنے اور کمیٹی کا ڈیکورم برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔
اجلاس کے دوران ایک بل پر بھی حکومت اور کمیٹی ارکان کے درمیان اختلاف سامنے آیا۔ طلال چوہدری نے بلوں کی منظوری کے طریقہ کار پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اگر بغیر پڑھے تمام بل منظور کرنے ہیں تو یہ کمیٹی کی مرضی ہے۔ اس پر سیف اللہ ابڑو نے اعتراض کیا کہ سینیٹرز صرف بلوں کی مخالفت سنتے رہنے کے لیے نہیں بیٹھے۔ حکومتی مخالفت کے باوجود کمیٹی نے ووٹنگ کے ذریعے متعلقہ بل کثرتِ رائے سے منظور کر لیا۔
اجلاس میں پاسپورٹ پالیسی پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ طلال چوہدری نے بتایا کہ ماضی میں بڑی تعداد میں بلیو پاسپورٹس جاری کیے گئے اور وزارتِ داخلہ نے ایسے تقریباً 25 ہزار پاسپورٹس کم کیے ہیں، جن میں بڑی تعداد افسران اور بیوروکریٹس کی تھی۔
کمیٹی نے سابق سینیٹرز اور پارلیمنٹیرینز کے پاسپورٹس، این او سی اور سیکیورٹی سے متعلق معاملات بھی زیرِ بحث لائے، جبکہ متعلقہ حکام سے پالیسی اور قانونی طریقہ کار کے بارے میں وضاحت طلب کی گئی۔

