انسدادِ دہشت گردی عدالت نے پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر حماد اظہر کو جناح ہاؤس جلاؤ گھیراؤ کیس میں 20 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔
حماد اظہر کو سخت سیکیورٹی میں انسدادِ دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق انہیں ہتھکڑیاں لگا کر اور چہرے پر کپڑا ڈال کر عدالت لایا گیا، جبکہ سیکیورٹی وجوہات کے باعث میڈیا نمائندوں کو کمرہ عدالت سے باہر نکال دیا گیا۔
پولیس اور تفتیشی ٹیم نے عدالت سے حماد اظہر کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ جناح ہاؤس جلاؤ گھیراؤ کیس کی تفتیش، نقشہِ موقع اور دیگر شواہد کی برآمدگی کے لیے ان کی تحویل ضروری ہے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا اور بعد ازاں 20 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔
لاہور پولیس کے مطابق حماد اظہر گزشتہ تقریباً تین سال سے روپوش تھے اور ان کے خلاف 9 مئی کے واقعات سمیت متعدد مقدمات درج ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ 18 مقدمات میں مطلوب اور اشتہاری قرار دیے جا چکے تھے۔
حماد اظہر کی گرفتاری سے قبل ان کی والدہ نے لاہور ہائیکورٹ سے بھی رجوع کیا تھا اور عدالت سے ان کی بازیابی، گرفتاری ظاہر کرنے اور مقدمات کا ریکارڈ پیش کرنے کی استدعا کی تھی۔ بعد ازاں پولیس کی جانب سے ان کی گرفتاری عدالت میں ظاہر کردی گئی

