لاہور (جنرل رپورٹر)ہسپتالوں کیلئے ادویات کی خریداری میں 14کروڑ 58لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ بے ضابطگیوں کا معاملہ سامنے آگیا، محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کی آڈٹ رپورٹ پبلک اکائونٹس کمیٹی میں پیش کردی گئی۔رپورٹ کے مطابق
مالی سال 2022میں لوکل پرچیز کی مد میں ادویات کی خریداری کی گئی، جس میں مقامی مینو فیکچرر کی مبینہ فراڈولنٹ پری کوالیفکیشن کے ذریعے ادویات کی سپلائی کا معاملہ سامنے آیا آڈٹ رپورٹ کے مطابق مطلوبہ پری کوالیفکیشن کے بغیر ایک فرم کو پیراسیٹامول سیرپ کی سپلائی کیلئے اہل قرار دیا گیا۔ فرم میز لِسکو پاکستان کو پیراسیٹامول سیرپ 120ملی گرام فی 5 ملی لٹر اور 60ملی لیٹر پیکنگ کی سپلائی کیلئے پری کوالیفائی کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق متعلقہ دوا کیلئے فرم نے مطلوبہ ڈریپ رجسٹریشن اور پری کوالیفکیشن سے متعلق شرائط پوری نہیں کی تھیں، جبکہ 120 ملی لیٹر پیک سائز کے حوالے سے بھی فرم مطلوبہ اہلیت نہیں رکھتی تھی آڈٹ رپورٹ کے مطابق فرم کو سپلائی مکمل کرنے کیلئے مقررہ 75 روزہ ڈیلیوری مدت میں توسیع بھی دی گئی۔ ٹینڈر دستاویزات میں ایک ہی دوا کے مختلف پیک سائز کیلئے الگ کوٹیشنز طلب کرنے کی شرط تھی۔رپورٹ کے مطابق 18لاکھ 44ہزار 382روپے کے لیٹ ڈیلیوری چارجز فرم کے بل سے پہلے ہی منہا کیے گئے، جبکہ محکمہ نے پیپرا ویب سائٹ پر ٹینڈر کے کوریجینڈم کی اشاعت کا ثبوت فراہم نہیں کیا۔ آڈٹ رپورٹ میں سفارش کی گئی کہ خریداری کے معاملے کو محکمہ خزانہ سے ریگولرائز کرایا جائے اور ذمہ داری کا تعین کیا جائے۔رپورٹ کے مطابق معاملہ چیئرمین، فنانس ڈیپارٹمنٹ نے نمٹا دیا، تاہم آڈٹ حکام نے سفارش سے اتفاق نہیں کیا اور معاملے پر دوبارہ اجلاس بلانے کی تجویز دی۔
