نئی دہلی ( نیوز ایجنسیاں) برکس سمٹ کے دوران ”شائننگ انڈیا”کی حقیقت
عیاں، حکومت نے نئی دہلی کی سڑکوں کے کنارے ٹینٹ لگا کرشہرکی غربت چھپانے کی ناکام کوشش کی جبکہ چینی صدر نے مودی کے عشائیے میں شرکت نہ کی جس سے تعلقات کی پیچیدہ نوعیت عیاں ہوگئی۔ بھارت میں برکس سمٹ کے آغاز کے ساتھ ہی نااہل مودی سرکار کی معاشی ناکامی پرکھل کر تنقید کی جانے لگی۔بھارتی تجزیہ نگار اجے شکلا نے مودی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بھارت میں اب تک منعقدہ برکس اجلاسوں سے ہمیں کچھ حاصل نہیں ہوا۔اجے شکلا نے کہا کہ سچائی یہ ہے کہ ہندوستان کی جی ڈی پی زیرو ہے،بیروزگاراتنی ہے کہ لوگ کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں، بھارت کی حالت یہ ہے کہ پانچ پانچ، آٹھ آٹھ ہزارروپے کی نوکری کیلئے بھی لائنیں لگ رہی ہیں۔دوسری طرف مودی حکومت نے برکس سمٹ پرنئی دلی کی سڑکوں کے کنارے ٹینٹ لگا کرشہرکی غربت چھپانے کی ناکام کوشش کی۔کچی آبادیوں کے کنارے ٹینٹ لگائے جانے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے جبکہ روزگار متاثرہونے پر شہری انتظامیہ پرپھٹ پڑے۔نئی دہلی کی کچی بستیوں کے رہائشیوں کا کہنا تھا کہ مودی حکومت پردے لگاکر غربت کو چھپانے کی کوشش کررہی ہے لیکن حقیقت چھپائی نہیں جاسکتی۔دریں اثناء چین کے صدر شی جن پنگ کی جانب سے نئی دہلی میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے برکس رہنماؤں کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے نے بھارت اور چین کے تعلقات کی پیچیدہ نوعیت کو عیاں کیاہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق شی جن پنگ نئی دہلی پہنچے اور مودی سے بات چیت سے قبل برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کی، تاہم اطلاعات کے مطابق وہ آرام کرنے کے لیے اپنے ہوٹل واپس چلے گئے۔ بیجنگ یا نئی دہلی میں سے کسی جانب سے اس کی باضابطہ وضاحت جاری نہیں کی گئی۔ان کی عدم شرکت اس لیے اہم ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور برکس کے کئی دیگر رہنما اس اجتماع میں شریک ہوئے۔
برکس سمٹ
