اسلام آباد (حبہ عباسی )کیا پاکستان کا انٹرنیٹ واقعی محفوظ اور مستحکم ہے؟ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کے اجلاس میں ہونے والی گفتگو نے کئی نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔پلوشہ خان کی زیرِ صدارت اجلاس میں ایک طرف پاکستانی افسران کے حساس ڈیٹا کے بیرونِ ملک فروخت ہونے کے خدشات زیرِ غور آئے تو دوسری جانب سوشل میڈیا پر مبینہ توہینِ مذہب، ٹک ٹاک لائیو کے استعمال اور بچوں کی آن لائن حفاظت جیسے سنگین معاملات بھی سامنے آئے۔سینیٹر افنان اللہ نے دعویٰ کیا کہ ٹک ٹاک لائیو پر توہینِ اسلام سے متعلق مواد اور انتہائی نامناسب سرگرمیاں جاری ہیں، جبکہ چیئرمین پی ٹی اے نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں ٹک ٹاک لائیو سرکاری طور پر بند ہے لیکن صارفین وی پی این کے ذریعے اسے استعمال کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر پابندی موجود ہے تو اس پر موثر عملدرآمد کیوں نہیں ہو رہا؟اجلاس میں یہ انکشاف بھی ہوا کہ سپریم کورٹ اور اس کی کوئٹہ رجسٹری کے درمیان انٹرنیٹ لنک میں مسائل پیش آئے، جبکہ اسلام آباد سمیت مختلف علاقوں سے انٹرنیٹ سروس متاثر ہونے کی شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ ملک کی اعلی ترین عدالتی اور سرکاری تنصیبات اگر انٹرنیٹ مسائل سے محفوظ نہیں تو عام صارف کی صورتحال کیا ہوگی؟چیئرمین پی ٹی اے کے مطابق پاکستان میں روزانہ تقریباً 500 سوشل میڈیا شکایات موصول ہو رہی ہیں، جبکہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی یا سخت ضوابط کے حوالے سے بھی غور کیا جا رہا ہے۔دوسری جانب ٹیلی کام کمپنیوں کے درمیان مسابقتی قواعد، پی ٹی سی ایل نجکاری کے بقایا معاملات اور ملک بھر میں انٹرنیٹ سروسز کے معیار پر بھی سوالات اٹھے۔ قائمہ کمیٹی نے وزارت آئی ٹی کو ٹیلی کام کمپنیوں سے مشاورت کے لیے 15 دن کی مہلت دے دی جبکہ چیئرمین پی ٹی اے نے پورے ملک میں انٹرنیٹ سروسز کے مسائل پر دو ماہ میں تفصیلی بریفنگ دینے کی یقین دہانی کرائی۔سوال یہ ہے کہ جب حساس ڈیٹا کے تحفظ، سوشل میڈیا نگرانی، وی پی این کے ذریعے پابندیوں کے خاتمے اور انٹرنیٹ سروس کی خرابی جیسے مسائل ایک ساتھ سامنے آ رہے ہیں تو کیا پاکستان کا ڈیجیٹل نظام واقعی محفوظ، موثر اور عوامی ضروریات کے مطابق چل رہا ہے، یا پھر ادارے ابھی بھی بنیادی مسائل کی نشاندہی تک محدود ہیں؟
