اسلام آباد(این این آئی)آئینی عدالت نے وراثتی جائیداد سے متعلق اہم فیصلہ کرتے ہوئے پہلے فوت ہونے والے بھائی کے بچوں کی چچا کی جائیدا پر وراثت کا حق مسترد کردیاجبکہ عدالت نے کہاہے کہ پہلے وفات پا چکے بھائی کے بچوں کو چچا کی جائیداد میں حقِ وراثت نہیں ملے گا، شرعی حصے دار موجود ہوں تو دور کے رشتہ دار وراثت کے حق دار نہیں ہوتے، مسلم فیملی لاز آرڈیننس کی دفعہ 4کا اطلاق صرف بیٹے یا بیٹی کی اولاد پر ہوتا ہے۔فیصلے کے مطابق پہلے وفات پا چکے بھائی کے بچوں کو دفعہ 4کے تحت نمائندگی کا حق نہیں دیا جا سکتا، صرف خونی رشتہ وراثت کا حق پیدا نہیں کرتا، وارث کی قانونی حیثیت بھی دیکھی جائے گی۔کہا گیا کہ اصل سوال یہ نہیں کہ درخواست گزار متوفی کے رشتہ دار ہیں یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ آیا یہ رشتہ انہیں ایسے طبقے میں شامل کرتا ہے جو زندہ وارثوں کی موجودگی میں بھی وراثت کا حق رکھتا ہو۔آئینی عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزاروں کا دعوی انہیں شرعی حصے دار قرار دے کر برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔
