چکدرہ (تحصیل رپورٹر) یونیورسٹی آف ملاکنڈ کے شعبہ فارمیسی کے پروفیسر ڈاکٹر جہانگیر مجددی نے کہا ہے کہ صحت کے مثر نظام میں فارماسسٹس کا کردار نہایت اہم ہے، جبکہ فارمیسی کے روشن مستقبل کے لیے فارماسسٹس کے علم، پیشہ ورانہ مہارتوں، روزگار و ترقی کے مواقع اور پیشہ ورانہ شناخت کو مزید مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔وہ سوات کالج آف فارماسیوٹیکل سائنسز، گوگدرہ سوات میں ورلڈ فارماسسٹ ڈے 2026 کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ تقریب میں کالج کے فیکلٹی ممبران، طلبہ و طالبات اور دیگر شرکا نے بھرپور شرکت کی۔ اس موقع پر ورلڈ فارماسسٹ ڈے کی مناسبت سے کیک کاٹنے کی تقریب بھی منعقد کی گئی۔پروفیسر ڈاکٹر جہانگیر مجددی نے اپنے خطاب میں کہا کہ فارماسسٹس صحت کے شعبے میں ادویات کے محفوظ، مثر اور مناسب استعمال کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق فارمیسی گریجویٹس کو صرف روایتی تعلیمی علم تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں عملی، کلینیکل، تحقیقی، تکنیکی اور کاروباری مہارتوں سے بھی آراستہ کرنا ضروری ہے تاکہ وہ صحت، تعلیم، تحقیق، فارماسیوٹیکل صنعت اور دیگر ابھرتے ہوئے شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کو مثر انداز میں بروئے کار لا سکیں۔انہوں نے کہا کہ فارمیسی کے طلبہ اور گریجویٹس کے لیے معیاری روزگار، پیشہ ورانہ ترقی اور عملی تربیت کے بہتر مواقع پیدا کیے جانے چاہئیں، جبکہ تعلیمی اداروں اور فارماسیوٹیکل انڈسٹری کے درمیان مضبوط روابط وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ انہوں نے صنعتی تربیت، انٹرن شپ، مشترکہ تحقیقی منصوبوں، جدت طرازی اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جامعات اور صنعت کے درمیان مثر تعاون سے فارمیسی کے شعبے میں نئی راہیں ہموار کی جا سکتی ہیں۔پروفیسر ڈاکٹر جہانگیر مجددی نے کہا کہ فارمیسی کے شعبے کی ترقی صرف تعلیمی اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس مقصد کے لیے صنعت، صحت کے اداروں، پیشہ ورانہ تنظیموں اور دیگر متعلقہ حلقوں کو بھی مشترکہ طور پر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے فارمیسی کے شعبے کی شناخت، معیار اور استحکام کو مزید بہتر بنانے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ نوجوان فارمیسی گریجویٹس ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں اور انہیں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم، تربیت اور عملی مواقع فراہم کرکے نہ صرف ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کیا جاسکتا ہے بلکہ ملکی صحت کے نظام اور فارماسیوٹیکل صنعت کی ترقی میں بھی نمایاں کردار ادا کیا جاسکتا ہے۔تقریب کے دوران ورلڈ فارماسسٹ ڈے کی اہمیت، فارماسسٹس کو درپیش پیشہ ورانہ چیلنجز اور شعبہ فارمیسی میں مستقبل کے مواقع کے حوالے سے بھی اظہار خیال کیا گیا۔ تقریب کے اختتام پر مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر جہانگیر مجددی، فیکلٹی ممبران، طلبہ و طالبات اور تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا گیا۔
