ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم اگر دوبارہ فوجی کارروائی شروع ہوئی تو ایران جنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی مکمل طور پر تیار ہے۔ عراقچی نے این بی سی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تہران بیک وقت سفارت کاری اور جنگ، دونوں کے لیے تیار ہے۔
عراقچی کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور مذاکرات بحال کرنے کے لیے سات روزہ منصوبہ پیش کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت امریکا سے جنگ ختم کرنے، ایران کے منجمد اثاثے بحال کرنے، ناکہ بندی ختم کرنے اور ایرانی تیل کی فروخت کی اجازت دینے جیسے اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق امریکی اقدامات پہلے چار یا پانچ دنوں میں مکمل ہوں تو چھٹے روز آبنائے ہرمز کھولی جا سکتی ہے اور ساتویں روز مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔
عراقچی نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے منصوبہ مسترد کیے جانے کے باوجود ایران کو ثالثوں کے ذریعے ابھی تک اس حوالے سے باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ایران ماضی کے تجربات کے باوجود سفارت کاری کا راستہ کھلا رکھنا چاہتا ہے تاکہ امن کا کوئی موقع ضائع نہ ہو۔

