امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات میں تعطل کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں دوبارہ بڑھ گئیں۔ رائٹرز کے مطابق پیر 28 ستمبر کو برینٹ خام تیل کی قیمت ابتدائی کاروبار میں 1.27 فیصد بڑھ کر 105.64 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 0.76 فیصد اضافے کے ساتھ 93.11 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔
قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی جانب سے پیش کیے گئے امن منصوبے کو مسترد کرنا اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے معاملے پر مذاکرات میں تعطل ہے۔ ایران نے گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر قطر کے ثالثوں کے ذریعے امریکا کو یہ تجویز پہنچائی تھی۔ ٹرمپ نے تجویز مسترد کرنے کے باوجود کہا ہے کہ امریکی مذاکرات کار رواں ہفتے ایران سے مزید بات چیت کرسکتے ہیں۔
ایران کی جانب سے کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کھولنے کا معاملہ مخصوص شرائط پوری ہونے سے مشروط ہے۔ دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور سعودی عرب کی جانب حوثیوں کے حملوں کے خدشات نے بھی عالمی تیل سپلائی کے بارے میں تشویش برقرار رکھی ہے۔
تاہم خطے سے تیل کی برآمدات میں کچھ بہتری بھی دیکھی گئی ہے۔ کے پلر کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق ستمبر میں مشرق وسطیٰ کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی خام تیل برآمدات بڑھ کر 12.8 ملین بیرل یومیہ ہوگئیں، جو فروری میں جنگ شروع ہونے کے بعد بلند ترین سطح ہے۔

