لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی افواج صدام حسین کیخلاف 2003 سے 2011 اور پھر داعش
کے نام پر 2014 سے 2026 تک ہزاروں کی تعداد میں تعینات رہیں امریکا 30 ستمبر تک عراق سے اپنے فوجیوں کا انخلا کرنے والا تھا؛ عراق میں صدام حسین کی گرفتاری اور پھانسی کے وقت سے تعینات امریکی افواج بالآخر واپس چلی گئیں۔عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی افواج 30 سمتبر بروز بدھ تک عراق میں اپنے آخری اڈے بھی خالی کرنے والی تھیں جس کے بارے میں 2024 میں سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے دور میں طے کیا گیا تھا۔ تاہم آج مقررہ قت سے ایک روز قبل ہی امریکا نے اپنے بقیہ تقریبا ڈھائی ہزار فوجیوں اور جنگی اثاثوں کو عراق سے نکالنے کا عمل مکمل کر لیا جب کہ آخری امریکی فوجی اڈوں کا کنٹرول بھی عراقی فورسز کے حوالے کر دیا۔اس سے قبل عراق کے فوجی اڈوں جیسے عین الاسد اور بغداد سے امریکی فوجیوں اور اثاثوں کا انخلا پہلے ہی مکمل ہو چکا تھا۔ آخری مرحلے میں نیم خودمختار کردستان کے علاقے اربیل ہوائی اڈے سے بھی امریکی دستے روانہ ہو گئے ہیں۔ عراقی وزارت دفاع کے ترجمان نے الجزیرہ کو تصدیق کی ہے کہ عراق میں اب اتحادی افواج کا کوئی دستہ موجود نہیں، آخری بیس بھی خالی کردیا گیا تاہم امریکا اور عراق کے درمیان فوجی و سیکیورٹی تعاون جاری رہے گا۔خیال رہے کہ امریکی فوج پہلے 2011 میں عراق سے نکل گئی تھی تاہم داعش کے خلاف جنگ کے لیے 2014 میں دوبارہ واپس آئی تھیں اور امریکی قیادت میں اتحادی فوج کی فضائی، انٹیلی جنس اور لاجسٹک مدد کی تھی۔2003 میں صدام حسین حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے عراق پر امریکی حملے کے بعد اور پھر داعش کے خلاف جنگ میں دو دہائیوں سے زائد عرصے کے دوران تقریبا ساڑھے چار ہزار امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی انخلا سے ایران اور اس کے اتحادی عراقی مسلح گروہوں کے اثر و رسوخ میں اضافے کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے جبکہ بعض عراقی سیکیورٹی حکام کو داعش کے دوبارہ منظم ہونے کا خدشہ بھی ہے۔ادھر عراقی اور کرد سیکیورٹی حکام نے بھی حالیہ ہفتوں میں امریکی فوج کے انخلا کے عمل کے شروع ہوتے ہی داعش کے سلیپر سیلز کی سرگرمیوں میں اضافے کی نشاندہی کرتے ہوئے سیکیورٹی خدشات کا اظہار کیا تھا۔دوسری جانب ایران کا امریکی افواج کے انخلا کو اپنے اتحادی گروہوں کے لیے کامیابی قرار دیتے ہوئے کہنا ہے کہ عراق اور خطے میں امریکی فوجی موجودگی کے خاتمے سے خطے میں طویل مدتی سلامتی کی راہ ہموار ہوگی۔واضح رہے کہ امریکی افواج کے ڈیڑھ لاکھ سے زائد اہلکار صدام حسین کیخلاف 2003 سے 2011 تک عراق میں رہے جب کہ داعش کے خلاف کارروائی کے نام پر 2014 میں ساڑھے پانچ ہزار امریکی فوجی دوبارہ تعینات ہوئے جن میں سے ڈھائی ہزار کو 2020 میں واپس بلالیا گیا تھا۔
بریکنگ نیوز
- ایشین گیمز : پاکستان اسکواش ٹیم کی سیمی فائنل راؤنڈ میں رسائی
- چوری ڈکیٹی کی متعدد وارداتوں میں شہری نقدی زیورات قیمتی اشیاء سے محروم
- محکمہ اوقاف پنجاب میں اختیارات کے استعمال پر سنگین سوالات اٹھنے لگے
- پی ٹی آئی لانگ مارچ پنجاب پولیس کے ہزاروں اہلکاروں کو اسلام آباد بلوا کر بھوکا پیاسا چھوڑ دیا گیا
- ڈاکٹر محمد عباس یو ایچ ایس لاہور کے کنٹرولر امتحانات تعینات
- EPA کا انسداد سموگ سے متعلق سال25-26ء کا تقابلی ڈیٹا جاری
- اے این ایف’ مختلف شہروں میں منشیات فروشوں کیخلاف کریک ڈائون
- مسلسل غیر حاضری اور غفلت پر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ پروفیسر فریاد حسین نے سخت انتظامی
- قطر نے پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا آن ارائیول کی سہولت معطل کردی
- ریلوے حکام نے گریڈ 19کے 2افسران کی تعیناتیاں کر دیں
- زیادتی کیس میں گرفتار ملزم کی درخواست ضمانت منظور
- محترمہ رئیسہ عادل پرنسپل انفارمیشن آفیسر کا اے پی این ایس ہاؤس کا دورہ
- خبرکے حوالے رابطہ کیا گیا، لیکن افسران محکمہ نے موقف دینے سے گریز کیا
- لاہور میں برائلر گوشت کی قیمت مستحکم ، سرکاری نرخ476 روپے فی کلو برقرار، انڈے مہنگے
- میٹرو بس میں وارداتیں کرنے والا خواتین کا گروہ گرفتار
- خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کا امکان؟ آئینی طریقہ کار سامنے آگیا
- دنیا بھر میں ہر 3 میں سے ایک بچہ نظر کی کمزوری کا شکار :تحقیق
- ایک کروڑ 18 لاکھ روپے کے جعلی چیک کیس کے ملزم کی ضمانت خارج
- چین: پسند کی شادی پر ناراض باپ اچانک شادی ہال پہنچ گیا، بیٹی رو پڑی
