روس کے سائبیریا کے علاقے ارکتسک میں طاعون کے خدشات کے درمیان دوسری ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد علاقے میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ تاہم روسی حکام نے ابھی تک طاعون کے کسی تصدیق شدہ پھیلاؤ کی اطلاع نہیں دی۔
یہ معاملہ 28 سالہ داریا شپلووا کی موت کے بعد سامنے آیا، جو ارکتسک کے اینٹی پلیگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں لیبارٹری ورکر تھیں۔ وہ 2 اکتوبر کو نامعلوم نوعیت کے شدید نمونیا کے باعث انتقال کر گئی تھیں۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی موت کو طاعون سے جوڑنے کے شواہد نہیں ملے۔
دوسری ہلاکت کی اطلاعات مقامی و بین الاقوامی میڈیا میں سامنے آئی ہیں، تاہم دوسرے مریض کی موت اور طاعون کے درمیان تعلق کی سرکاری تصدیق تاحال نہیں ہوئی۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے بھی کہا ہے کہ ہلاکت کی وجہ ابھی باضابطہ طور پر معلوم نہیں ہوئی۔
پہلی ہلاکت کے بعد تقریباً 200 افراد کو احتیاطی طور پر قرنطینہ یا طبی نگرانی میں رکھا گیا تھا۔ روسی صحت کے ادارے کے مطابق متاثرہ خاتون سے رابطے میں آنے والے افراد میں طاعون کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا اور تقریباً 60 فیصد افراد کو نگرانی سے رہا کیا جا چکا ہے۔
WHO کے ابتدائی جائزے کے مطابق ارکتسک کے لیے خطرہ درمیانے سے کم، روس کے مجموعی طور پر کم اور یورپی خطے کے لیے بہت کم قرار دیا گیا ہے۔ یورپی مرکز برائے بیماریوں کی روک تھام و کنٹرول (ECDC) نے بھی کہا ہے کہ فی الحال انسان سے انسان میں مسلسل منتقلی کے شواہد موجود نہیں۔
روس میں طاعون کا خوف، دوسری ہلاکت کی رپورٹ

