لاہور(جنرل رپورٹر)رواں سال 2026 کے ستمبر کی پولیو مہم کے بعد بھی 6لاکھ 27ہزار 776بچے ملک بھر میں ویکسین سے محروم، فنڈنگ ، اخراجات اور مسڈ چلڈرن کے مکمل صوبائی سطح کے حساب پر سوالات کھڑے ہوگئے ۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان میں انسدادِ پولیو کے لیے عالمی اداروں کی اربوں ڈالر کی مالی معاونت، بھاری سرکاری و انتظامی اخراجات اور لاکھوں فرنٹ لائن ورکرز کی تعیناتی کے باوجود پولیو وائرس کا مکمل خاتمہ نہ ہونا قومی پروگرام کی کارکردگی، منصوبہ بندی اور مالی شفافیت پر سنجیدہ سوالات اٹھا رہا ہے۔ 21سے 27ستمبر 2026 کی ذیلی قومی پولیو مہم کے بعد جاری اعدادوشمار کے مطابق 2کروڑ 93لاکھ سے زائد بچوں کو قطرے پلائے گئے تاہم 6لاکھ 27ہزار 776 بچے مہم کے بعد بھی ویکسین سے محروم رہے۔ یہ تعداد ہدف کا تقریباً 2.1فیصد بنتی ہے۔ پولیو پروگرام کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں 2023کے دوران 6، 2024میں 74اور 2025میں 31پولیو کیسز رپورٹ ہوئے، یوں تین برس میں مجموعی تعداد 111 رہی۔ 2024میں بلوچستان 27، سندھ 23اور خیبر پختونخوا 22کیسز کے ساتھ سب سے زیادہ متاثرہ صوبے رہے، جبکہ پنجاب اور اسلام آباد میں بھی ایک، ایک کیس سامنے آیا۔ 2025میں بھی 31کیسز رپورٹ ہوئے۔ یہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ بڑے پیمانے پر ویکسی نیشن مہمات کے باوجود وائرس کی منتقلی مکمل طور پر نہیں روکی جا سکی۔ستمبر 2026کی مہم میں 2لاکھ 73ہزار سے زائد ورکرز کی تعیناتی کے باوجود 6لاکھ سے زیادہ بچوں کا ویکسین سے محروم رہ جانا اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ صرف ویکسین شدہ بچوں کی مجموعی تعداد پیش کرنے کے بجائے مسڈ چلڈرن، انکار کرنے والے خاندانوں، گھروں پر عدم موجودگی اور سکیورٹی مسائل کے باعث رہ جانے والے بچوں کا الگ الگ حساب بھی جاری کیا جائے۔
پولیو مہم
