اسلام آباد ، پشاور ( نیوز ایجنسیاں،نامہ نگار خصوصی) وفاقی کابینہ نے خیبر پختون خوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج لگانے کی منظوری دیدی جس کے بعد صدر مملکت آصف علی زرداری نے خیبر پختون خوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی سمری پر دستخط کر دئیے۔ ادھرپاکستان تحریک انصاف نے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سمیت اہم رہنماؤں کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس کے علاوہ وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کے چیف سیکرٹری سمیت 15 اعلیٰ افسروں کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کا حکم دے دیا جبکہ ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان کو چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا تعینات کردیا، علاوہ ازیں صوبے میں پاک فوج کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے ۔ اتوار کو وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا اہم ہنگامی اجلاس ہوا جس میں آرٹیکل 232اور 234کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔وفاقی کابینہ اجلاس کے اعلامیہ میں کہاگیاکہ وفاقی کابینہ کو خیبرپختونخوا میں امن وامان کی صورتِ حال اور دہشت گردی کی بگڑتی صورتِ حال پر بریفنگ دی گئی۔ کابینہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ سے کے پی حکومت کی دانستہ لاتعلقی کے پیش نظر حالات کا جائزہ لیا، کابینہ نے وزیرِ اعظم کو تجویز دی کہ صدر مملکت کو مشورہ دیں کہ صدرِ مملکت آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے صوبہ کے پی میں ایمرجنسی کا نفاذ کریں ۔اعلامیہ کے مطابق صدر کو مشورہ دیں کہ خیبرپختونخوا میں آئین کے آرٹیکل 232، 234 کے تحت ایمرجنسی نافذ کریں، آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگا دی جائے۔اعلامیے میں کہا گیا کہ اس ضمن میں وزیرِ اعظم ہاؤس سے ایڈوائس ایوان صدر بھجوا دی گئی ۔ بعد ازاں صدر مملکت آصف علی زرداری نے خیبر پختون خوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی سمری پر دستخط کر دیے۔ذرائع کے مطابق صدرِ مملکت نے آرٹیکل 232اور 234کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج کی سمری پر دستخط کیے۔ایوان صدر کے اعلامیے کے مطابق دہشت گردی کے واقعات میں غیرمعمولی شدت سے عوام کے جان و مال کو سنگین خطرات ہیں، صدرِ پاکستان نے خیبر پختونخوا میں آرٹیکل 232کے تحت ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔اعلامیے کے مطابق خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات، امن و امان کی سنگین صورتحال پر ایمرجنسی کا اعلان کیا گیا۔ایوان صدر نے کہا کہ سرکاری تنصیبات، بنیادی ڈھانچے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر دہشت گرد حملے بڑھے، صوبائی حکومت دہشت گردی اور لاقانونیت کے موثر تدارک میں ناکام رہی۔اعلامیے میں کہا گیا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے ساتھ اعلان کیا گیا کہ صوبائی حکومت موجودہ حالات میں آئین کے مطابق نہیں چلائی جا سکتی، وفاقی حکومت گورنر کے پی کو تمام یا بعض صوبائی امور اپنے اختیار میں لینے کی ہدایت دے سکے گی۔ایوان صدر کی جانب سے کہا گیا کہ صوبائی اسمبلی کے علاوہ صوبے کے دیگر اداروں، حکام کے اختیارات گورنر استعمال کرسکیں گے، وزیرِ اعلیٰ، صوبائی وزرا، مشیران، معاونینِ خصوصی اور ایڈووکیٹ جنرل اپنے عہدے فوری طور پر چھوڑ دیں گے،صدارتی اعلان فوری طور پر نافذ العمل ہو گا، صدر نے کے پی میں سنگین صورتِ حال کے پیش نظر فوری آئینی اقدام ضروری قرار دیا۔قبل ازیں ذرائع کے مطابق حساس اداروں کی رپورٹس کے بعد وفاقی کابینہ کے اجلاس میں مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔اجلاس میں تجویز پیش کی گئی کہ سکیورٹی صورتِ حال کے تناظر میں آرٹیکل232کے تحت پورے صوبے میں ایمرجنسی لگائی جائے، بے امنی کا شکار خیبرپختونخوا کے 12اضلاع کے انتظامی امور کا معاملہ الگ سے دیکھا جائے جبکہ سابق فاٹا کے 8اور ڈی آئی خان، لکی مروت، کرک، کوہاٹ اضلاع کا کنٹرول وفاق کے پاس ہو گا۔ذرائع کے مطابق گورنر فیصل کریم کنڈی کو ہی صوبے کے چیف ایگزیکٹو کے اختیار سونپے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے،وفاقی کابینہ کی جانب سے منظوری کے بعد گورنر صوبے کا کنٹرول سنبھال لیں گے ۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں کے پی پولیس اور حساس اداروں کی 2خصوصی سکیورٹی رپورٹس پیش کی گئیں۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ 2 برس کے دوران خیبر پختون خوا میں دہشت گرد حملوں کی تعداد میں اضافہ ہوا، دہشت گردی میں مسلسل اضافہ کے پی کی سیکیورٹی صورتِ حال کے لیے سنگین اور تشویشناک چیلنج بن گیا۔حساس اداروں کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں دہشت گرد عناصر اور سہولت کاروں کے ساتھ صوبائی حکومت کی پالیسی ناقص ہے، ناقص پالیسی اور دہشت گردوں کے لیے نرم گوشے نے خطرات میں اضافہ کیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ تیاری، توجہ اور موثر انسدادِ دہشت گردی اقدامات میں کمی سے دہشت گرد عناصر کو جگہ بنانے کا موقع ملا، یکم مارچ 2024 تا 23 ستمبر 2026 خیبر پختون خوا میں دہشت گردی واقعات میں 195فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔دہشت گرد نیٹ ورکس، سہولت کاری، غیرقانونی سرگرمیوں کے باہمی روابط کو بھی سکیورٹی کے لیے چیلنج قرار دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا کہ 2026 میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں سے 73 فیصد کا نشانہ پولیس اور سکیورٹی ادارے بنے، خیبر پختون خوا میں دہشت گردوں کی جانب سے ڈرون کے استعمال میں تشویشناک اضافہ ہوا۔رپورٹ کے مطابق 2024 میں پولیس اور سکیورٹی اداروں پر کوئی ڈرون حملہ رپورٹ نہیں ہوا، جبکہ 2026 میں دہشت گردوں کے ڈرون حملوں کی تعداد 170 تک پہنچ گئی، ایک سال کے دوران دہشت گردوں کے ڈرون حملوں میں تقریبا 107 فیصد اضافہ ہوا۔حساس اداروں کی رپورٹ کے مطابق آئی ای ڈی حملوں کی تعداد 2025 میں بڑھ کر 181 ہو گئی، رواں سال ستمبر تک 159 حملے ریکارڈ کیے گئے، بدلتے دہشت گرد طریقہ کار کے مقابلے میں پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد بڑھانا ناگزیر ہے، پورے خیبر پختونخوا کے لیے سیف سٹی منصوبہ تاحال صرف پشاور تک محدود ہے۔دریں اثناء ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔ذرائع کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کابینہ اجلاس کے دوران مولانا فضل الرحمن کو فون کیا۔قبل ازیں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ ہوتے ہی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو گرفتار کر لیا گیا۔صوبائی صدر جنید اکبر نے سوشل میڈیا پر تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور جنید اکبر کو گرفتار کرلیا گیا۔ذرائع کے مطابق ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد وزیراعلی سہیل آفریدی سے ملاقاتوں پر پابندی کر دی گئی تھی۔وزیراعلی ہائو س میں کسی کو بھی اجازت نہیں تھی جبکہ وزیراعلی ہائوس کا اسٹاف بھی محدود کر دیا گیا۔دریں اثناپی ٹی آئی کے ممبر قومی اسمبلی شاہد خٹک بھی کہا ہے کہ سہیل آفریدی اور جنید اکبر کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔اس کے علاوہ وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کے چیف سیکرٹری سمیت 15 اعلیٰ افسروں کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کا حکم دے دیا۔ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان کو چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا تعینات کیا گیا، ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے گریڈ 22کے افسر ہیں۔ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان اس سے قبل وفاقی وزارتِ توانائی کے پاور ڈویژن میں سیکریٹری تعینات تھے۔نوٹیفکیشن کے مطابق ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان کی بطور چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا تعیناتی فوری طور پر نافذ العمل ہوگی، ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان کی تعیناتی تاحکمِ ثانی برقرار رہے گی۔ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان کا تعلق ضلع مردان خیبر پختونخوا سے ہے ، وفاقی حکومت کی جانب سے تقرری کا نوٹیفکیشن 11 اکتوبر 2026 کو جاری کیا گیا۔علاوہ ازیں حکومتِ پاکستان نے محمد یحییٰ اخونزادہ کی خیبر پختونخوا حکومت میں تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا، محمد یحیی اخونزادہ، پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے گریڈ 20 کے افسر ہیں، محمد یحییٰ اخونزادہ اس سے قبل وزیراعظم آفس میں ایڈیشنل سیکریٹری تعینات تھے۔محمد یحیی اخونزادہ کا تعلق چارسدہ ، خیبر پختونخوا سے ہے، محمد یحییٰ اخونزادہ اس سے پہلے ایڈیشنل پولیٹیکل ایجنٹ ساؤتھ اور نارتھ وزیرستان، سیکرٹری ہیلتھ، انفارمیشن اور ایجوکیشن خیبر پختونخوا اور کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان بھی رہ چکے ہیں۔محمد یحییٰ اخونزادہ کی تعیناتی تاحکمِ ثانی مثر رہے گی، محمد یحیی اخونزادہ کی خدمات سول سرونٹس ایکٹ 1973 کے سیکشن 10 کے تحت خیبر پختونخوا حکومت کے سپرد کی گئی ہیں۔وفاقی حکومت نے چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کو عہدے سے تبدیل کر دیا، شہاب علی شاہ کو فوری طور پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی۔گریڈ 21 کے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے افسر شہاب علی شاہ نوٹیفکیشن کے مطابق شہاب علی شاہ فوری طور پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو رپورٹ کریں گے، آئندہ احکامات تک ہدایت برقرار رہے گی۔خیبرپختونخوا سے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے پندرہ افسروں کو تبدیل کر دیا گیا، پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس گریڈ 21 کے اکرام اللہ کا کے پی کے سے تبادلہ کیا گیا۔گریڈ20کے شاہد اللہ، گریڈ19کے شاہ فہد، گریڈ18کے کیپٹن ریٹائرڈ زبیر خان، گریڈ19کے کیپٹن ریٹائرڈ میاں عادل اقبال، گریڈ18کے وقار علی، گریڈ21کے عنبر علی خان، گریڈ18کے کیپٹن ریٹائرڈ ثنا اللہ خان، گریڈ 20 کے سہیل خان، گریڈ 18 کے محمد احتشام الحق، گریڈ18کے محمد فہیم، گریڈ19 کے محمد عثمان کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا۔پاکستان ایڈمنسٹریٹوسروس گریڈ19کے کیپٹن ریٹائرڈسرمد سلیم اکرم، گریڈ19کے شفیع اللہ خان کا کے پی کے سے تبادلہ کر دیا گیا اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا۔دریں اثناء وزیراعظم کے معاون خصوصی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کا سسٹم ری سیٹ کر دیا گیا ہے، صوبے کے عوام کو یوم نجات مبارک ہو۔ وفاقی کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اختیار ولی نے کہا کہ کے پی میں لا قانونیت، کرپشن، منشیات کے سوداگروں کا راج ہے۔ پولیس کو ربڑ اسٹیمپ بنا دیا گیا۔ وفاقی کابینہ کا یہ ایکشن بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔ان کا کہنا تھا کہ امن خیبر پختونخوا کے عوام کا بھی حق ہے۔ صوبے کے معاملات کو بہت پہلے حل کر لینا چاہیے تھا۔خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد بنائے جانے والے سیٹ اپ کے خدوخال سامنے آگئے۔ذرائع کے مطابق 8 قبائلی اضلاع سمیت بارہ اضلاع کیلئے چالیس سے پچاس رکنی کونسل بنائی جائے گی، بارہ اضلاع میں بنوں، لکی مروت، ٹانک اور ڈی آئی خان بھی شامل ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کونسل کو ایریا ڈویلپمنٹ کونسل کا نام دیا جائے گا، کونسل کا مقصد شورش زدہ علاقوں میں تیز تر ترقیاتی منصوبے مکمل کرنا ہے، ان اضلاع کیلئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل آئی جی تعینات کئے جائیں گے، اعلی سرکاری افسر وفاق کو جوابدہ ہوں گے۔ذرائع کے مطابق گورنر کو ایمرجنسی کے تحت تمام اختیارات تفویض کر دیئے گئے، گورنر گیارہ رکنی کیبینٹ بنائیں گے، گورنر کی کیبینٹ میں 10 ٹیکنو کریٹ شامل ہوں گے، ثمر بلور واحد سیاستدان کی حیثیت سے اس ایڈوائزری کابینہ کا حصہ ہوں گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی کے بعد سب سے پہلا ٹارگٹ امن وامان کی بحالی ہے، ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد خیبرپختونخوا میں اسمبلی معطل ہو جائے گی، اسمبلی سٹاف کے اختیارات کو بھی معطل کر دیا جائے گا۔
گورنر راج
