Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • زرعی شعبے کی بہتری اور مشکلات کا ازالہ وقت کی اہم ضرورت سردار سلیم حیدر
    • راولپنڈی :سی پی او حسن مشتاق سکھیرا کا شہر کے مختلف مقامات پر سکیورٹی انتظامات کا جائزہ ،سی پی او نے کرکٹ سٹیڈیم کی ڈیرٹیز چیک کیں ۔
    • رالپنڈی :تھانہ بنی پولیس کی کارروائی ،زیر حراست گینگ سے10مسروقہ موٹر سائیکل بر آمد۔
    • فتح جنگ :پی پی پی کسان ونگ کے صدر آصف حیات خان گورنر پنجاب سردار سلیم خان سے ملاقات کررہے ہیں ۔
    • خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے بعد اسلام آباد میں سکیورٹی مزید سخت
    • ریاض:مشوانی قبائل کی جانب سے سراج الحق کے اعزاز میں دی گئی تقریب کے موقع پر لی گئی گروپ تصویر۔
    • راولپنڈی پولیس کی کارروائیاں ،9افراد گرفتار،پتنگیں،ڈوریں شراب اور اسلحہ معہ ایمونیشن برآمدکرلیا
    • برٹش ہائی کمشنرکا ڈپٹی کمشنر چکوال سارہ حیات کے ہمراہ موضع مرید کا دورہ
    • کی کاوشیں جاری اسلام آباد کو ترقی یافتہ، سرسبز دارالحکومت بنانے کیلئے CDA
    • ریاض:مشوانی قومی تڑون قبیلہ کی جانب سے سراج الحق کے اعزاز میں عشائیہ
    • پنجاب کالج جنڈ میں پرنسپل ملک اقبال کی زیرِ صدارت سیرت النبی ۖ کانفرنس
    • پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں میں سر عام غیر قانونی ایل پی جی گیس بھرنے کا سلسلہ جاری
    • کرکٹ سیریز کیلئے فول پروف سیکورٹی انتظامات کئے گئے: مشتاق سکھیرا
    • نوٹسز بے سود3 ہزار سے زائد شاپنگ مالز بڑی عمارتیں فائر سیفٹی انتظامات سے محروم
    • راولپنڈی،،شادی شدہ خاتون سے زیادتی کرنے والے 2 افراد گرفتار
    • راولپنڈی، 3 مختلف مقدمات میں مطلوب 4 اشتہاری مجرم گرفتار
    • پاکستان سری لنکا دوسرا ٹی 20 میچ پر سکیورٹی و ٹریفک کے موثر انتظامات
    • کراچی:ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے گلستان جوہر میں نئے صوبوں ‘ انتظامی یونٹس اور بااختیار بلدیاتی نظام کے حوالے سے منعقدہ عوامی رابطہ مہم سے ڈاکٹر فاروق ستار خطاب کر رہے ہیں۔
    • جاپانی سفیر اکاماٹسو شوئچی کی ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، فیروز شاہ سے ملاقات
    • کراچی پورٹ کی عالمی انڈیکس میں ریکارڈ کارکردگی، وزیراعلیٰ سندھ کی مبارکباد
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    PTIنے گورنر راج ایمرجنسی کو مسترد کر دیا جے یوآئی جماعت اسلامی کی بھی مخالفت

    By Khabrain Newsاکتوبر 12, 2026
    Share Facebook Twitter Email WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    پشاور، اسلام آباد( نامہ نگار خصوصی، نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو مسترد کرتے ہوئے فیصلے کیخلاف بھرپور آواز اٹھانے کا اعلان کردیا۔ جمعیت علماء اسلام ، جماعت اسلامی نے بھی اس اقدام کی سختی سے مخالفت کی ہے، ادھر پشاور، راولپنڈی، اسلام آباد، لاہور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں سکیورٹی انتہائی سخت کردی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پکڑ دھکڑ کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے ، صوابی سے پی ٹی آئی کے 59 کارکنوں کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کو بھی گھر میں نظر بند کردیا گیاہے۔ پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج مسترد کردیا۔ دریں اثناء پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی کے آمریت پر مبنی اقدامات کی طرح وفاق کا یہ اقدام بھی تاریخ کے کوڑے دان میں جا گرے گا۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ فیصلے کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے اقدامات کی بھرپور مذمت کرتے ہیں،یہ صوبے کے آئینی حقوق پر ڈاکہ ہے، جو نامنظور ہے،ہم اپنی آئینی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ وفاقی حکومت جگر گردہ پیدا کرے اور صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کا اعلان کرے، ایمرجنسی یا گورنر راج کے اعلان کے بعد لوگ ترکیہ کی مثال دینا بھول جائیں گے۔پارٹی کی جانب سے ایکس پر پوسٹ کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے ( بیان میں پاکستان پر ایک غیر اعلانیہ مارشل لا کے ذریعے مسلط کردہ حکومت کہا گیا ہے) عملاً خیبر پختونخوا اسمبلی کو معطل کر دیا ہے جبکہ خیبر پختونخوا حکومت کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے اس اقدام کے نفاذ کے بعد صوبے کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت دیگر اہم عہدیداروں اغوا کر لیا ہے۔ تحریک انصاف کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان پر مسلط کیے گئے عناصر ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کرتے جا رہے ہیں تاکہ ان کی اقتدار پر گرفت برقرار رہے۔ بیان کے مطابق وفاقی حکومت عوامی مینڈیٹ سے محروم ہے اور صرف طاقت اور جوڑ توڑ کے ذریعے قائم ہے۔ بیان میں پاکستان کے عوام سے سوال کیا گیا ہے کہ آیا وہ ایک غیر قانونی حکومت کے تحت خاموشی سے یہ سب برداشت کرتے رہیں گے یا پھر کھڑے ہو کر پاکستان کو مکمل تباہی سے بچانے کی کوشش کریں گے۔دریں اثناء چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ ہم صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور اس اقدام کو یکسر مسترد کرتے ہیں، یہ ایک انتہائی تشویشناک اور سنگین سیاسی غلطی اور غیر جمہوری اقدام ہے، عوام اپنے حقوق کے خلاف ایسے اقدامات کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔ اپنے بیان میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر ردِعمل دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کا مینڈیٹ ان کا آئینی اور قانونی حق ہے، اس مینڈیٹ کو نظر انداز، صوبائی خودمختاری کو کمزور اور وفاق و صوبے کے درمیان تصادم پیدا کر کے نہ امن قائم کیا جا سکتا ہے اور نہ استحکام لایا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے پر کوئی اختلاف نہیں، دہشت گردی کا مقابلہ قومی یکجہتی اور مشترکہ حکمتِ عملی سے ہی ممکن ہے، صوبوں کو کمزور کر کے وفاق مضبوط نہیں ہو سکتا، مسائل کا حل طاقت، تصادم اور غیر معمولی اقدامات میں نہیں بلکہ سیاسی بصیرت، آئین کی بالادستی اور بامعنی مذاکرات اور عملی اقدامات میں ہے۔بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ہم عوامی مینڈیٹ، صوبائی خودمختاری اور آئینی و جمہوری حقوق کے تحفظ کیلئے ہر آئینی، قانونی اور جمہوری فورم پر بھرپور آواز اٹھائیں گے، مضبوط صوبے ہی مضبوط وفاق کی بنیاد ہیں، اور آئین کی حکمرانی ہی مضبوط پاکستان کی ضمانت ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ابھی بھی وقت ہے، اس فیصلے کو چند دنوں میں واپس لیا جاسکتا ہے، وفاق اناکو جانے دیں، زمینی حقائق کو سمجھے، جائز مطالبات تسلیم کرے، عوام کے احساسات اور جذبات کا احترام کرے اور ملک کو مزید سیاسی و معاشی نقصان اور جمہوری عمل کو پیچھے دھکیلنے سے بچائے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی فیصلوں پر نظرثانی کمزوری نہیں بلکہ قومی مفاد میں دانش مندی کی علامت ہوتی ہے ورنہ بہت نقصان ہوجائے گا۔دریں اثناء سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے اقدامات کی بھرپور مذمت کرتے ہیں،یہ صوبے کے آئینی حقوق پر ڈاکہ ہے، جو نامنظور ہے! ہم اپنی آئینی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے۔ایکس اکائو نٹ پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا ہم نے ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ وفاقی حکومت کی پالیسیوں پر سنجیدہ سوالات ہیں، جن کے باعث موجودہ حالات پیدا ہوئے۔ امن جرگے کی متفقہ قرارداد پر عمل درآمد کیا جائے، جس پر تمام سیاسی جماعتیں متفق تھیں۔انھوں نے کہا کہ ملک کے اہم معاملات میں عوام کے بنیادی حقوق اور اختیارات کو نظرانداز کرنا ناقابلِ قبول ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں خیبرپختونخوا کے حقوق کے تحفظ کیلئے آواز اٹھائیں۔ یہ صوبے کے آئینی حقوق پر ڈاکہ ہے، جو نامنظور ہے! ہم اپنی آئینی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے۔قبل ازیں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت جگر گردہ پیدا کرے اور صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کا اعلان کرے، ایمرجنسی یا گورنر راج کے اعلان کے بعد لوگ ترکیہ کی مثال دینا بھول جائیں گے۔سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم اپنے آئینی و قانونی ڈیمانڈز سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے، آئین قانون کے مطابق ہمارا لانگ مارچ ڈیمانڈز کے پورا ہونے تک جاری رہے گا۔قبل ازیں پشاور پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی اور کور کمیٹی کے مشترکہ اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا، جس میں کہا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمر جنسی کے ممکنہ نفاذ کی مخالفت کرتے ہیں۔اجلاس میں کہا گیا کہ گورنر راج یا ایمر جنسی کا نفاذ صوبے کے عوام کے جمہوری مینڈیٹ اور آئینی حقوق پر حملہ ہوگا، اس سے صوبے میں سیاسی کشیدگی اور عوامی بے چینی میں اضافہ ہوگا، ضم شدہ قبائلی اضلاع کے عوام کے آئینی حقوق، امن اور ترقی کا تحفظ ناگزیر ہے، ان علاقوں کے عوام کو قومی دھارے میں شامل کرنے کا بنیادی مقصد ان کے حقوق کا تحفظ اور احساس محرومی کا خاتمہ تھا۔وفاقی دارالحکومت میں بھی سکیورٹی ریڈ الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔ شہر کے تمام چوک چوراہوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے، جبکہ تمام ایس پیز، ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز کو فیلڈ میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔اڈیالہ جیل اور گردونواح میں سکیورٹی ریڈ الرٹ کردی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اڈیالہ جیل کے 6کلومیٹر کے علاقے میں اضافی پولیس تعینات کردی گئی ہے، جبکہ جیل کے گیٹ نمبر 5 کے قریب کنٹینرز کی بڑی تعداد پہنچا دی گئی ہے۔دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے والوں کو گرفتار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ کسی بھی مقام پر بینرز یا ہجوم نظر آنے پر فوری کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ شہر کے داخلی راستوں پر بھی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے۔ ریڈ زون میں غیر متعلقہ افراد کا داخلہ بند کردیا گیا ہے، جبکہ حساس عمارتوں پر رینجرز بھی تعینات کردی گئی ہے۔پشاورمیں سابق وزیراعلیٰ علی امین خان گنڈاپور کو گھر میں نظربند کرکے پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی۔پولیس ذرائع کے مطابق سابق وزیر اعلی خیبر پختونخوا اور پاکستان تحریک انصاف کے سابق صوبائی صدر سردار علی امین خان گنڈاپور کو ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس کی جانب سے اپنے گھر میں نظر بند کر کے رہائشگاہ کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ علاقے میں بھی سکیورٹی کے انتظامات سخت کیے گئے ہیں تاہم پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ موقف سامنے آنے کا انتظار ہے۔اس حوالے سے علی امین خان گنڈاپور نے سوشل میڈیا پر پیغام دیا ہے کہ پولیس نے گھر میں نظربند کردیا ہے یہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت عمل ہے، اس سب سے ڈرنے والے نہیں، جدوجہد جاری رہے گی۔ادھرپشاور میں سکیورٹی کی غیر معمولی صورتِ حال کے پیش نظر شہر کی اہم شاہراہوں پر کنٹینرز لگا کر راستے بند کردئیے گئے، جبکہ بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) سروس بھی عارضی طور پر معطل کردی گئی ۔ذرائع کے مطابق پشاور میں باچاخان چوک، خیبر روڈ اور فردوس چوک سمیت مختلف اہم مقامات پر کنٹینرز رکھ کر آمدورفت کے راستے بند کردئیے گئے ۔ شہر بھر میں پولیس کی اضافی نفری بھی تعینات کردی گئی ، جس کے باعث سیکیورٹی انتظامات سخت کردئیے گئے ۔ترجمان ٹرانس پشاور کے مطابق سکیورٹی صورتِ حال کے پیش نظر بی آر ٹی سروس عارضی طور پر معطل کی گئی ہے۔ترجمان کا کہنا ہے کہ سروس کی معطلی کے باوجود بی آر ٹی کا عملہ اسٹیشنز پر موجود ہے۔دوسری جانب گورنر ہائو س پشاور میں تمام عملے کی چھٹیاں منسوخ کردئیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ذرائع کے مطابق عملے کو گورنر ہائو س پہنچنے کی ہدایات جاری کردی گئیں۔شہر میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات اور اہم شاہراہوں کی بندش کے باعث شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ضلع صوابی میں پولیس نے پی ٹی آئی کے کارکنوں کی گرفتاریاں اور پکڑ دھکڑ شروع کردی۔آخری اطلاعات تک پولیس نے 59 کارکنوں کو گرفتارکر لیا، پیر کو صوابی میں پی ٹی آئی کا لانگ مارچ پونے والا تھا جو صوبے میں ایمرجنسی کے نافذ کی وجہ سے نہیں ہو سکے گا۔اطلاعات کے مطابق جہانگیرہ پل، پشاور اسلام آباد موٹر وے پر دریائے سندھ پل اور دیگر مقامات پر کنٹینر پہنچا دیئے گئے ہیں تاہم سڑکیں ٹریفک کے لیے کھلی ہیں۔خیبر پختون خوا کے تعلیمی بورڈز نے میٹرک امتحان 2تا حکم ثانی ملتوی کر دیے ہیں۔صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج لاگو ہو جانے کے بعد تمام تعلیمی بورڈز نے صوبے ہنگامی صورت حال کے تحت امتحانات ملتوی کر دیے ہیں۔خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نفاذ ہونے کے بعد صوابی ضلع میں آج 12اکتوبر کو تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔دریں اثناء جے یو آئی کی مرکزی کور کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا، اجلاس پارٹی سربراہ مولانا فضل الرحمان کی صدارت میں ہوا۔مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر ہونے والے اجلاس میں موجودہ ملکی سیاسی صورتحال پر غوروخوض کیا گیا، اجلاس میں آئندہ کا لائح عمل طے کیا گیا۔مولانا فضل الرحمن نے اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وفاقی حکومت نے گورنر راج اور بعض علاقوں میں جو ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان ہے، ہم اسے حرف بہ حرف مسترد کرتے ہیں، جی یوآئی اس پر عوام میں جائے گی، جے یو آئی عدالت جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ ہم جمہوری حقوق کا دفاع کریں گے، پارلیمنٹ میں عوامی حقوق کا دفاع کریں گے، میں بتاتا ہوں کہ معاملات یہاں تک کیسے پہنچے، میں سات اکتوبر کو اسلام آباد آیا، پی ٹی آئی رہنما میرے پاس آئے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جو انہوں نے ہمیں معلومات فراہم کی، ہم نے نہ اپنا نکتہ نظر دیا کہ حکومت نے مزاکرات کی کوئی راہ چھوڑی نہیں، دو نواں طرف کی صورتحال سامنے آئی۔ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی لانگ مارچ میں تھی اور کے پی کے میں مراحل طے کررہی تھی، ہمارے کہنے پر پی ٹی آئی نے اسلام آباد آنے کو موخر کیا ہوا تھا۔سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ مجھے وزیراعظم کے دفتر سے کل شام کو کھانے پر دعوت کی اطلاع ملی، میں نے اپنے دوستوں سے مشورہ کیا کہ وزیراعظم سے ملنا چاہیے یا نہیں، میں چار مہینوں سے وزیراعظم سے نہیں ملا تھا، میرے ساتھیوں نے مشورہ دیا کہ ملک کی خاطر آپ ملاقات کریں، وزیراعظم کے پاس گئے تو ان کایہ تھا کہ پہلے لانگ مارچ کال آف کیا جائے، پی ٹی آئی کا مطالبہ تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائیں اور پھر انہیں ہسپتال منتقل کریں۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ کھانے پر وزیراعظم سے تفصیلی گفتگو ہوئی، میں نے کہانیاں پہلے پی ٹی آئی سے بات کرلوں، کیونکہ سہیل آفریدی مارچ کولیڈ کررہے تھے مگر میرے ساتھ رابطہ میں نہیں تھے، میں نے آکر سہیل آفریدی ودیگر سے رابطہ کیا، میں نے آج صبح کی نماز جی وقت وزیراعظم سے رابطہ کیا، کیونکہ وزیراعظم جلدی سو جاتے ہیں اور صبح بہت جلدی جاگ جاتے ہیں، وزیراعظم نے کہاکہ آج کابینہ کا اجلاس ہے اس سے پہلے کچھ کرلیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی نے کہا تھا کہ اگر حکومت ہمارے مطالبات مان لیتی ہے تو ہم لانگ مارچ کال آف کردیں گے، وزیراعظم نے رات نو بجے فون کیا کہ وہ سب معاملات کابینہ کے سامنے رکھیں گے، پھر دس بجے اسحق ڈار کا فون آیا کہ ہم صوبہ میں ایمرجنسی نافذ کررہے ہیں، میں نے اسحق ڈار سے پوچھا کیوں ایمرجنسی لگا رہے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ صوبہ میں دہشت گردی بہت ہے، میں نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی نہیں ہے؟ صرف بات یہ کہ بلوچستان کی حکومت ہاں میں ہاں ملاتی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج و ایمرجنسی کے نفاذ کے فیصلے پر ایکس پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ جب منصب اقتدار پر فائز قوتیں گورنر راج اور ایمرجنسی کے ذریعے حکومت کرنے کی کوشش کریں تو صاف مطلب ہے کہ ان کی حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پی ڈی ایم جماعتوں نے رجیم چینج کے وقت سے جو تماشا شروع کیا ہے آج تک جمہوریت دشمنی کا یہ سفر جاری ہے، پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی تاریخ گورنر راجوں اور مینڈینٹ تسلیم نہ کرنے کی تاریخ ہے۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ واضح ہوچکا کہ فارم 47 کے ذریعے مسلط کردہ یہ نظام پوری طرح فلاپ ہوگیا ہے۔نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے اپنے بیان میں کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ بڑی غلطی ہے، اس سے سیاسی بحران مزیدگمبھیر ہوگا۔جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما سینیٹر کامران مرتضیٰ نے وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخواہ میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ پر حیرت اور تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کے اس قدم کو لائحہ عمل کی ناکامی اور جلد بازی قرار دیا ہے۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے گفتگو کرتے ہوئے اہم انکشافات کیے اور سوالات اٹھائے کہ حکومت نے یہ تمام عمل انتہائی جلد بازی میں کیا ہے جو کہ سیاسی اور جمہوری روایات کے منافی ہے کیوں کہ مذاکراتی عمل کے دوران بیک ڈور رابطوں میں معاملات تقریبا طے پا چکے تھے، چیزوں کے طے ہونے کے قریب ہوتے ہوئے حکومت کا اچانک رخ بدل لینا تکلیف دہ عمل ہے۔
    تحریک انصاف

     

     

    Khabrain News

      Keep Reading

      زرعی شعبے کی بہتری اور مشکلات کا ازالہ وقت کی اہم ضرورت سردار سلیم حیدر

      راولپنڈی :سی پی او حسن مشتاق سکھیرا کا شہر کے مختلف مقامات پر سکیورٹی انتظامات کا جائزہ ،سی پی او نے کرکٹ سٹیڈیم کی ڈیرٹیز چیک کیں ۔

      رالپنڈی :تھانہ بنی پولیس کی کارروائی ،زیر حراست گینگ سے10مسروقہ موٹر سائیکل بر آمد۔

      تازہ ترین

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      باجوڑ میں موبائل سروس و انٹرنیٹ بند شہریوں کو مشکلات کا سامنا

      گورنر راج اور ایمرجنسی مسئلے کا حل نہیں حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے:حافظ نعیم

      ریاض حملے کے بعد حوثیوں کی نئی دھمکی، سعودی ایئرپورٹس استعمال نہ کرنے کی وارننگ

      * رابطوں کے باوجود پی ٹی آئی کی خاموشی، محسن نقوی کے اہم انکشافات

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.