شیخوپورہ(بیورورپورٹ) نواحی گاؤں گھنگ سے ملحقہ ڈیرا روہی والا میں دو سال کے بعد اٹلی سے آنے والے نوجوان نے گھریلو جھگڑے کی بناء پر اپنی خالہ ذاد فاطمہ اسحاق کو سر میں گولی مار کر قتل کر دیا اور فرار ہو گیا تھانہ بھکھی پولیس نے مقتولہ کے والد محمد اسحاق رانا کی رپورٹ پر ملزم رانا محمد وسیم بلال کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر کے اس کی تلاش شروع کر دی ہے پولیس رپورٹ میں مقتولہ کے والد نے کہا ہے کہ ملزم نے یہ کارروائی اپنے دو بھائیوں طیب بلال، حسنین بلال اور والدہ محمودہ بیگم کی مدد سے کی ہے پولیس رپورٹ میں رانا محمد اسحاق کا کہنا ہے کہ میری چھ بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں میری دو بیٹیاں آمنہ بی بی اور لبنیٰ بی بی ملزم رانا وسیم کے بھائیوں کے ساتھ بیاہی ہیں رانا وسیم بلال کے اہل خانہ کو غصہ تھا کہ ان کے دونوں بیٹوں حسنین اور امجد کی بیویاں گھر کا کام نہیں کرتیں جس پر وقوعہ کے روز بھی جھگڑا ہوا جس میں مقتولہ نے بھی مداخلت کی تو ملزم رانا وسیم بلال نے گالی گلوچ کرنے کے بعد صندوق سے پستول نکال کر فاطمہ بی بی کے سر پر فائر مار دیا جس سے وہ شدید زخمی ہو گئی اور جس کے بعد اسے محلے داروں نے ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکی اس کیس کے تفتیشی آفیسر نے بتایا ہے کہ فاطمہ بی بی کے قتل کی تفتیش گھریلو جھگڑے کے علاوہ غیرت کے نام پر قتل سمیت تمام پہلوؤں سے کی جائے گی پولیس نے رات گئے مقتولہ کی لاش پوسٹ مارٹم ایگزیمینیشن کروانے کے بعد اس کے والد اور بھائیوں کے سپرد کر دی ہے ۔
