اسلام آباد (حبہ عباسی)عالمی بینک کے مطابق 2024 میں بے روزگاری کی شرح 7 فیصد رہی، جبکہ روزگار کی منڈی میں داخل ہونے والے ہر چھ افراد میں سے تقریبا ایک کو کام نہیں مل سکا۔اعداد و شمار کے مطابق 2018 سے اب تک پاکستان میں ایک کروڑ 77 لاکھ خالص نئی ملازمتیں پیدا ہوئیں، تاہم ان میں سے بڑی تعداد غیر رسمی شعبے، کم اجرت والے کاموں اور خود روزگاری پر مشتمل رہی۔ اس کا مطلب ہے کہ ملازمتوں کے مواقع پیدا ہونے کے باوجود مستقل روزگار اور مناسب آمدن کی فراہمی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے لیبر فورس سروے 2024-25 کے مطابق ملک میں بے روزگاری کی شرح 2020-21 کے 6.3 فیصد سے بڑھ کر 2024-25 میں 7.1 فیصد ہوگئی، جبکہ افرادی قوت کی تعداد 7 کروڑ 18 لاکھ سے بڑھ کر 8 کروڑ 31 لاکھ تک پہنچ گئی۔ یعنی چار سال کے دوران افرادی قوت میں تقریبا ایک کروڑ 13 لاکھ افراد کا اضافہ ہوا۔روزگار کے شعبوں میں بھی نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی۔ 2020-21 میں زراعت کے شعبے سے وابستہ افراد کا تناسب 37.4 فیصد تھا، جو 2024-25 میں کم ہو کر 33.1 فیصد رہ گیا، جبکہ خدمات کے شعبے میں روزگار کا تناسب 37.2 فیصد سے بڑھ کر 41.2 فیصد ہوگیا عالمی بینک کے مطابق 2014 سے 2024 کے دوران پاکستان میں فی کارکن پیداواری صلاحیت میں سالانہ اوسط اضافہ محض 0.4 فیصد رہا، جبکہ 2018-19 سے 2024-25 کے دوران حقیقی اجرتوں میں سالانہ اوسطا 3.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس صورتحال میں ملازمت کرنے والے افراد کی قوتِ خرید متاثر ہوئی اور گھریلو اخراجات پورے کرنا مزید مشکل ہوگیا۔دوسری جانب عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح 2018-19 کے 22 فیصد سے بڑھ کر 2024-25 میں 29 فیصد تک پہنچ گئی، جس کے نتیجے میں تقریبا 7 کروڑ افراد غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔اعداد و شمار ایک اہم سوال اٹھاتے ہیں کہ جب ہر سال 35 لاکھ افراد روزگار کی منڈی میں داخل ہو رہے ہیں اور بے روزگاری کی شرح میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے تو ان افراد کے لیے معیاری اور مستقل ملازمتیں پیدا کرنے کا مثر منصوبہ کہاں ہے؟ صنعتی ترقی، نجی سرمایہ کاری اور فنی تعلیم کے فروغ کے بغیر روزگار کے بڑھتے ہوئے بحران پر قابو پانا ایک بڑا چیلنج رہے گا۔
بریکنگ نیوز
- سعودی عرب کا کھجور کے درختوں کو بچانے کے لیے خلائی ٹیکنالوجی سے مدد لینے کا فیصلہ
- گلگت :ایک شخص تاریخی ہلتے ہوئے پل سے گزر رہا ہے۔
- زیادتی کے الزامات کے بعد امریکی یونیورسٹی میں سٹوڈنٹ پارٹیز پر پابندی
- ٹیکسلا میں جرائم پیشہ عناصر بے لگام، چوری ڈکیتی کی وارداتوں میں اضافہ
- اسلام آباد: یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی) کی سینٹرل کور کمیٹی کے اجلاس کے موقع پر سرپرستِ اعلی ایس ایم تنویر، سیکرٹری جنرل ظفر بختاوری، صدر یو بی جی بلوچستان غلام فاروق، صدر یو بی جی پنجاب عامر عطا باجوہ، علی حسام اصغر، ثمینہ فاضل، مومن علی ملک اور دیگر رہنما موجود ہیں۔
- اسلام آباد،اسٹڈی ویزے پر جانے والا طالبعلم مشتبہ تعلیمی اسناد پر آف لوڈ
- لاہور:الحمرا آرٹ کونسل میں طالبہ پینٹنگ کرنے میں مصروف ہے۔
- سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید کی بازیابی کیلئے درخواست دائر
- پاکستان ،روس کا مشترکہ مفادات کے تمام شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے پختہ عزم کا اعادہ
- ایف پی سی سی آئی کی صدارت کیلئے ایس ایم تنویر کے نام کی منظوری
- ہنی ٹریپ کے ذریعے گاڑی ہتھیانے والے میاں بیوی گرفتار
- پولیس کی کارروائی، شراب فروشی میں ملوث 03 ملزمان گرفتار
- گلگت :ایک شخص تاریخی ہلتے ہوئے پل سے گزر رہا ہے۔
- اسلام آباد: وفاقی وزیر احسن اقبال کا چینی سرمایہ کاروں کے ساتھ گروپ فوٹو۔
- پر امن مظاہرین پر ظالمانہ کریک ڈاون مودی سرکار پر شدید تنقید
- پنجاب خواتین کمیشن کی چیئرپرسن تعینات نہ کرنے پر چیف سیکرٹری پنجاب کیخلاف دائر توہیں عدالت کی درخواست خارج
- حکومت پنجاب کے ترقیاتی اقدامات’ داتا دربار کے اطراف کا منظر تبدیل
- کچرا اٹھانا والڈ سٹی کی ذمہ داری’ ہماری طرف سے عرس کے انتظامات
- حضرت شاہ رکن عالم کے سالانہ عرس کے انتظامات نامکمل
- سعودی عرب میں ٹریفک حادثہ، پاکستانی باپ 2 بیٹوں سمیت جاں بحق
