پشاور (نیوز ایجنسیاں)پشاور سکول سانحے کے معاملے میں درج ایف آئی آر میں نامزد افراد کی
تعداد 4ہوگئی۔سکول مالک کیساتھ مزید چار افراد کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔تفتیشی ٹیم کے مطابق نامزد ملزمان سکول مالک کے پارٹنر تھے۔ ملزمان گھر چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں۔ مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات شامل نہیں کی گئیں۔ چاروں ملزمان کی گرفتاری، بیانات لینے کے بعد کیس آگے بڑھے گا۔واضح رہے کہ دیر کالونی سکول سانحے میں ٹیچرز سمیت 35 بچے جاں بحق ہوئے۔دوسری جانب خیبر پختونخوا میں تعلیمی اداروں کی عمارتوں کے معائنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے جس دوران کئی سکولوں کی عمارتیں خستہ حال پائی گئی ہیں۔محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر سامنے آنیوالے خستہ حال سکولوں کی عمارتوں کا معائنہ کیا جا رہا ہے، خستہ حال سکولوں کے معائنے کی ابتدائی رپورٹس موصول ہو رہی ہیں۔محکمہ تعلیم کے مطابق بونیر کے بدال سرکاری اسکول کے 6 میں سے 4 کلاس رومز اور چارسدہ کے 3 سرکاری اسکولوں کے 20 میں سے 15 کلاس رومز کو خستہ حال قرار دیا گیا ہے۔اس کے علاوہ لوئر دیر میں لڑکوں کے 3 سرکاری اسکولوں کی عمارتیں ناقابل استعمال ہیں، کرک کے بمی بانڈہ سرکاری اسکول کے دونوں کلاس رومز ، لکی مروت کے 2 سرکاری اسکولوں کے 5 میں سے 4 ، مردان کے 2 سرکاری اسکولوں کے 15 میں سے 4 ، ڈیرہ اسماعیل خان کے 2 سرکاری اسکولوں کے تمام 25 کلاس رومز اورہری پور کے لڑکیوں کے 3 سرکاری اسکولوں کی عمارتیں مکمل خستہ حال قرار دے دی گئی ہیں۔محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ سرکاری اسکولوں کی خستہ حال عمارتوں کا ڈیٹا سوشل میڈیا ویڈیوز سے جمع کیا گیا، خیبر پختونخوا حکومت نے شہریوں سے خستہ حال اسکولوں کی ویڈیوز شیئر کرنے کی اپیل کی تھی۔
سکول سانحہ
