راولپنڈی(خصوصی رپورٹر)جوڈیشل کمپلیکس میں سول جج پر وکلا کے مبینہ حملے اور تشدد کے واقعہ کے بعد بار اور عدالتی عملہ آمنے سامنے آگیا تھانہ سول لائن پولیس نے سول جج ملک علی میراں پر حملہ کر کے انہیں زخمی کرنے پر محمد اسلم خان نیازی اور محمد فاروق اسلم خان سمیت 7 وکلا کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 سمیت مختلفدفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا وکلا پر مقدمہ کے اندراج پر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی کی کی کال پر بدھ کے روز وکلا نے ہڑتال کی اور عدالتی امور کا بائیکاٹ کیا جبکہ دوسری جانب مختلف عدالتوں میں تعینات عدالتی عملے نے بھی احتجاج کرتے ہوئے سول جج پر حملے کے خلاف جوڈیشل کمپلیکس کے اطراف احتجاجی ریلی نکالی ڈسٹرکٹ بار کے سیکریٹری قمر الحق خان نیازی کی جانب سے جاری ہڑتال نوٹس میں اسلم خان نیازی سمیت دیگر وکلا کے خلاف درج ایف آئی آر کو جھوٹ پر مبنی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی گئی ہے جبکہ پولیس کے روئیے کو جانبدارانہ قرار دیتے ہوئے مکمل ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے دوسری جانب عدالتی عملے نے دوران ڈیوٹی جج پر حملہ کر کے انہیں زخمی کرنے کے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اگر عدالتوں کے جج محفوظ نہیں تو عدالتی عملے اور عام شہریوں کو تحفظ کون فراہم کرے گا وکلا اور عدالتی عملے کے الگ الگ احتجاج اور ہڑتال کے باعث گزشتہ روز عدالتوں میں مقدمات کی سماعت نہ ہوسکی جس سے جیل سے لائی گئی حوالات اور دیگر سائلین کو تمام دن انتظار کے بعد نئی تاریخیں دے دی گئیں تاہم اس ضمن میں بعض سینئر وکلا فریقین کے درمیان صلح صفائی کی کوشش کرتے رہے یاد رہے کہ منگل کے روز راشد محمود بنام طہ زبیر کے دیوانی مقدمہ میں عدالت نے اسلم نیازی کے مخالف وکیل کی درخواست منظور کی تھی تاہم تھانہ سول لائنز پولیس نے سول جج ملک علی میراں کے ریڈر سید طاہر عباس شاہ کی مدعیت میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 کے علاوہ تعزیرات پاکستان کی دفعات 324، 506.ii، 147، 149، 186، 353 اور 452 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے مقدمہ کے متن کے مطابق محمد اسلم خان نیازی اور محمد فاروق اسلم خان 6/7 دیگر وکلا کے ہمراہ زبردستی جج کے چیمبر میں داخل ہوئے اور جج صاحب سے دست درازی اور گالم گلوچ شروع کر دی اور بلند آواز سے کہا کہ آپ نے ہمارے خلاف دوسرے فریق کی درخواست کیوں منظور کی ہے جس پر جج صاحب نے کہا کہ میں نے قانون کے مطابق فیصلہ کیا ہے پھر بھی آپ کو اعتراض ہے تو اپیل دائر کرسکتے ہیں اس دوران اسلم خان نیازی نے شیشے کا گلاس اٹھا کر جج صاحب کے سر پر دے مارا جو انہیں ماتھے پر لگا اور وہ زخمی ہو گئے جبکہ فاروق اسلم خان نے ٹوٹے ہوا گلاس جج صاحب کے منہ پر مارنے کی کوشش کی جس سے جج صاحب کی انگلیاں بھی زخمی ہو گئیں جب میں اور دیگر عملہ چھڑانے کے لئے آگے ہوئے تو انہوں نے مجھے بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔
