خرطوم(نیوز ایجنسیاں) سوڈان کی فوج پر متنازع سرحدی علاقے ابیئی میں ایک بازار پر ڈرون حملہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 53افراد ہلاک اور 27زخمی ہوگئے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق
ابیئی کے مقامی حکام نے الزام لگایا کہ حملے کے دوران فوج نے 22بارودی مواد یا گولہ بارود استعمال کیا۔حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں خواتین، بچے، بزرگ، مقامی تاجروں، نوک ڈنکا برادری کے افراد، جنوبی سوڈان واپس آنے والے شہریوں اور سوڈانی پناہ گزینوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔اقوام متحدہ نے بھی ابیئی میں حملے کی مذمت کی ہے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک کے مطابق امیت مارکیٹ میں کم از کم 28شہری ہلاک ہوئے، جبکہ متعدد افراد زخمی اور کئی لاپتا ہیں۔ اقوام متحدہ نے ڈرون حملوں میں اضافے کو تشویش ناک قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے بیان کردہ ہلاکتوں کی تعداد مقامی حکام کے اعدادوشمار سے کم ہے۔جنوبی سوڈان کی وزارت خارجہ نے حملے پر سوڈانی سفیر کو طلب کیا اور الزام لگایا کہ فوج نے بازار کے متعدد مقامات کو نشانہ بنایا۔ یہ مارکیٹ ان علاقوں تک سامان پہنچانے کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے جہاں نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کا کنٹرول ہے۔سوڈان اپریل 2023 سے سرکاری فوج اور نیم فوجی تنظیم آر ایس ایف کے درمیان شدید جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ حالیہ حملے بھی ملک میں بڑھتے ہوئے تشدد کا حصہ ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اتوار اور پیر کو سوڈان کے مختلف علاقوں میں ہونے والے حملوں میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
ڈرون حملہ
