اسلام آباد، نئی دہلی(نیوز ایجنسیاں)دفاعی تجزیہ کاروں نے بھارتی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے کہ آپریشن سندور کے دوران کوئی ہدف بھارتی فضائیہ کی دسترس سے باہر نہیں تھا۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تجزیہ کاروں نے اس بیان کو محض خیالی دعویٰ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آپریشن سندور نے بھارتی برتری کے بجائے اس کی بلندو بانگ دعووں کی حدود واضح کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ بچوں اور خواتین کی ہلاکتوں کا باعث بننے والے کمزور اہداف پر حملے کیے گئے۔ مبصرین نے کہاکہ دوسری جانب پاکستان کے جے10سی لڑاکا طیاروں، پی ایل15میزائلوں اور فضائی دفاعی نظام نے بھارت کو محتاط رہنے پر مجبور کیا۔تجزیہ کاروں نے کہا کہ بھارتی فضائیہ کے اسکواڈرنز کی تعداد مطلوبہ 42 کے مقابلے میں صرف 29 سے 31ہے۔ اس کے پاس تقریبا 600 جنگی طیارے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستانی فضائیہ نے اپنی صلاحیتوں کو جدیدخطوط پر استوارکیا، بھارتی فضائیہ کا مقابلہ کیا اور رافیل سمیت کئی بھارتی طیارے مار گرائے۔ اس کے نتیجے میں بھارت کشیدگی کم کرنے پر مجبور ہوا۔انہوں نے کہا کہ مئی کی جھڑپوں کے دوران رافیل سمیت جدید بھارتی جنگی طیاروں کا مار گرایا جانا بھارتی فضائیہ کے سربراہ کے بے پناہ برتری کے دعووں کی نفی کرتا ہے۔مبصرین نے کہا کہ پاکستان کا عزم اور دفاعی صلاحیت برقرار ہے۔ ان کے مطابق بھارتی فضائیہ کے سربراہ آپریشن سندور کی ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے اپنے ملک کے عوام کو خیالی کہانیاں سنا رہے ہیں۔ادھر بھارت میں سکھ یاتریوں کی پاکستان آمد پر پابندی اور کرتارپور راہداری کی بندش کا معاملہ ایک بار پھر موضوعِ بحث بن گیا ۔ بھارتی پنجاب کے وزیراعلی بھگونت مان نے پاکستان میں منعقد ہونے والی ورلڈ پنجابی کانفرنس میں شرکت کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے مودی حکومت کی پالیسیوں پر سوالات اٹھا دیئے۔بھارتی جریدے ٹائمز آف انڈیا کے مطابق بھگونت مان نے بھارتی پنجاب اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب مودی حکومت انہیں فرانس اور جاپان جانے کی اجازت نہیں دیتی تو پاکستان جانے کی اجازت کیسے دے گی؟رپورٹ کے مطابق بھارتی پنجاب اسمبلی کے سپیکر اور ارکان نے بھی وزیراعلی کے ہمراہ پاکستان آنے کی خواہش کا اظہار کیا، بھگونت مان نے اسمبلی کے ارکان کے ساتھ کرتارپور اور ننکانہ صاحب میں حاضری کیلئے کرتارپور راہداری کھولنے کا مطالبہ بھی کیا۔
آپریشن سندور
