تہران دواشنگٹن، تہران ( مانیٹرنگ ڈیسک ) ایران جنگ ٹرمپ کو لے ڈوبی ، امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے ری پبلکن کو پچھاڑ دیا، امریکی صدر نے شکست کی وجہ ایران جنگ اور مہنگائی کو قرار دیتے ہوئے ہار مان لی۔ امریکی انتخابات کے نتائج کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی ہوگئی جبکہ ایران نے کہا ہے کہ امریکی عوام نے جارحیت کو مسترد کردیا۔ انتخابات میں مسلم امیدواروں نے بھی نئی تاریخ رقم کردی ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکا کے وسط مدتی الیکشن میں بڑا دھچکا لگ گیا، ڈیموکریٹس نے کانگریس کا کنٹرول حاصل کر لیا، ری پبلکنز کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ابتدائی نتائج کے مطابق امریکی مڈٹرم الیکشن میں ڈیموکریٹس نے ری پبلکن کو پچھاڑ دیا، 54سیٹوں کے ساتھ ڈیموکریٹس نے سینیٹ پر کنٹرول حاصل کر لیا، صدر ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی تاحال سینیٹ میں صرف 44 نشستیں حاصل کر سکی، امریکی سینیٹ کی مجموعی نشستیں 100ہیں، دیگر نشستوں پر نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ایوان نمائندگان میں بھی ڈیموکریٹس کا راج ہے، ڈیموکریٹس نے 231نشستیں جیت کر سادہ اکثریت حاصل کر لی، جبکہ ری پبلکنز کو ابھی تک صرف 139 سیٹوں پر ہی کامیابی ملی ہے، 435 رکنی ایوان کے کنٹرول کیلئے 218 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔گورنر کے انتخابات میں بھی ڈیموکریٹس 18 سیٹیں جیت کر آگے ہے، ڈیموکریٹ گورنرز کی تعداد 26 ہوگئی، ریپبلکنز کے صرف 10 گورنر منتخب پائے، مجموعی تعداد 18 ہوگئی۔آرکنساس اور فلوریڈا میں ریپبلکن امیدوار کامیاب ہوئے، نیوہیمپشائر، میری لینڈ، نیویارک اور پنسلووینیا میں ڈیموکریٹس نے کامیابی سمیٹی، ڈیموکریٹ کیشالانس باٹمز امریکی تاریخ کی پہلی سیاہ فام خاتون گورنر منتخب ہوگئیں، کیشا لانس باٹمز نے ری پبلکن حریف رک جیکسن کو شکست دی، کیشا لانس باٹمز 1998 کے بعد جارجیا کی پہلی ڈیموکریٹ گورنر بھی ہوں گی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی انتخابات کے نتائج تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا، انہوں نے کہا کہ ایران جنگ اور مہنگائی ری پبلکنز کی شکست کی وجہ بنی۔نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انتخابی نتائج کو قبول کرنے کے لئے مکمل طور پر تیار ہوں، ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کسی مشترکہ لائحہ عمل پر کام کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لئے تیار ہوں، ممکن ہے دونوں جماعتیں کسی معاملے پر اتفاقِ رائے پیدا کرلیں۔بعدازاں وال سٹریٹ جرنل کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران جنگ اور مہنگائی ریپبلکنز کی شکست کی وجہ بنی، اپنی کابینہ میں تبدیلی کا ارادہ نہیں رکھتا، امیگریشن سمیت متعدد معاملات پر ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کر سکتے ہیں ۔ ٹرمپ نے کہا کہ ڈیموکریٹس کی انتخابی کارکردگی کو سراہتا ہوں، ڈیموکریٹس کئی معاملات پر تعاون کر سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ لوگ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے قلیل مدتی اثرات برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں تھے، انتخابی نتائج کے ریپبلکنز کے خلاف آنے میں ایران جنگ اہم رہی، ڈیموکریٹس غیر ضروری نوعیت کے بل پیش کریں گے تو ویٹو کروں گا۔ایک سروے کے مطابق خواتین ووٹرز کی اکثریت نے ڈیموکریٹس کی حمایت کی۔اے پی سروے کے مطابق ووٹ ڈالنے والوں میں خواتین کا تناسب 53 فیصد جبکہ مردوں کا 46 فیصد رہا۔ سروے کے مطابق خواتین ووٹرز میں 58 فیصد نے ڈیموکریٹ امیدواروں جبکہ 40 فیصد نے ریپبلکن امیدواروں کو ووٹ دیا۔اے پی سروے میں بتایا گیا کہ مرد ووٹرز تقریبا دو حصوں میں تقسیم رہے، 49 فیصد نے ڈیموکریٹس جبکہ 49 فیصد نے ریپبلکن امیدواروں کی حمایت کی۔امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج کے بعد ایشیائی سٹاک مارکیٹس میں ملا جلا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔خبر ایجنسی کے مطابق چین کے شنگھائی کمپوزٹ انڈیکس میں 2.16 فیصد کا اضافہ ہوا، ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ انڈیکس میں بھی 1.28 فیصد کی تیزی دیکھی گئی، جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس بھی ایک فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔خبر ایجنسی کے مطابق جاپان کے نکی انڈیکس میں 1.42 فیصد کی گراوٹ دیکھنے میں آئی، جبکہ بھارت اور تائیوان کی سٹاک مارکیٹس میں مندی ریکارڈ کی گئی۔امریکی وسط مدتی انتخابات میں مسلم امیدواروں کی کامیابی نے امریکی سیاست میں نئی تاریخ رقم کر دی۔ریاست کنساس میں ایک صدی بعد ڈیموکریٹ امیدوار سینیٹر بنے، کنساس سے ایڈم ہیملٹن نے سینیٹر منتخب ہو کر تاریخ رقم کر دی۔خبر ایجنسی کے مطابق امریکی کانگریس کی مسلمان رکن الہان عمر نے ریاست منیسوٹا سے کامیابی حاصل کر کے اپنی نشست برقرار رکھی۔فلسطینی نژاد پہلی امریکی کانگریس ویمن راشدہ طلیب نے ریاست مشی گن سے کامیابی حاصل کی، رشیدہ طلیب پانچویں مدت کیلئے کانگریس ویمن منتخب ہوئیں۔امریکی ریاست الینوائے میں ڈیموکریٹ امیدوار نبیلہ سید نے ری پبلکن نشست جیت کر ریاستی سینیٹ کی رکن منتخب ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا، نبیلہ سید نے ری پبلکن امیدوار ڈاربی ہلز کو شکست دی، نبیلہ سید کو 57فیصد جبکہ ڈاربی ہلز کو 43 فیصد ووٹ ملے۔نبیلہ سید 2022 میں الینوائے کی ریاستی اسمبلی کی پہلی مسلمان ارکان میں شامل ہوئی تھیں، اب انہوں نے اسمبلی سے سینیٹ تک کا انتخابی سفر طے کر لیا ہے۔امریکی ریاست مشی گن سے ڈیموکریٹ امیدوار عبدل السید نے سینیٹ کی نشست پر تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے پہلے مسلمان امریکی سینیٹر بننے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے، سینیٹ کی نشست پر ڈیموکریٹ امیدوار عبدل السید نے ری پبلکن امیدوار مائیک راجرز کو شکست دی۔نیو جرسی سے ایوان نمائندگان کیلئے مسلم امیدوار آدم حماوی منتخب ہوئے، ریاست کنساس میں ایک صدی بعد ڈیموکریٹ امیدوار سینیٹر بنے، کنساس سے ایڈم ہیملٹن نے سینیٹر منتخب ہو کر تاریخ رقم کر دی۔امریکی ریاست مشی گن سے ڈیموکریٹ امیدوار عبدل السید نے سینیٹ کی نشست پر تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے پہلے مسلمان امریکی سینیٹر بننے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔سینیٹ کی نشست پر ڈیموکریٹ امیدوار عبدل السید نے ری پبلکن امیدوار مائیک راجرز کو شکست دی۔عبدل السید نے الیکشن میں کامیابی پر ووٹرز سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ اپنی کامیابی عوام کے نام کرتا ہوں، یہ مزدوروں کی نہیں میری جنگ ہے، ٹرمپ کے الزامات کے باوجود جدوجہد جاری رکھی، انہوں نے ہمیں ہرانے کیلئے خطیر رقم خرچ کی لیکن مشی گن نے امید کو چن لیا۔ان کا کہنا تھا کہ ریپبلکن امریکا کے نظریے کے مخالف ہیں، میرے نام اور مذہب کو مسئلہ بنایا گیا، حکومت عوام کیلئے اور عوام سے ہوتی ہے، ہم امریکی عوام اور مزدوروں کیلئے روشن مستقبل چاہتے ہیں، میری توجہ اپنے پالیسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے پر مرکوز ہے۔عبدالسید نے کہا کہ صدر ٹرمپ سے کہتا ہوں میرا نام پکارنے میں تمہیں مشکلات تھیں، ٹرمپ میرے نام سے مسئلہ تھا تو آئندہ سے صرف سینیٹر پکارنا۔واضح رہے کہ امریکی مڈٹرم انتخابات میں عبدل السید کے علاوہ کئی دیگر مسلم امیدوار بھی میدان میں اترے تھے۔وسط مدتی انتخابات کیلئے ایلون مسک کی بھاری مالی معاونت بھی کام نہ آئی۔ دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے انتخابی مہمات پر مجموعی طور پر 44 کروڑ 60 لاکھ ڈالر خرچ کیے، جن میں سے زیادہ تر رقم ریپبلکن امیدواروں اور انتخابی کمیٹیوں کو فراہم کی گئی۔امریکی ریاست الاسکا سے ریپبلکن سینیٹ امیدوار ڈین سلیوان نے الیکشن میں دھاندلی کا الزام لگا دیا۔وسط مدتی انتخابات میں 3 خلابازوں نے خلا سے ووٹ کاسٹ کیا۔امریکی ریاست مشی گن میں کارلسن ہائی سکول کو بم کی دھمکی موصول ہونے کے بعد سکول کی عمارت فوری طور پر خالی کروا لی گئی۔ریاست مشی گن سے امریکی سینیٹ کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار عبدل السید نے کہا کہ سینیٹ اور ایوان نمائندگان میں اکثریت ملی تو ٹرمپ کا احتساب کریں گے۔ریاست مشی گن سے امریکی سینیٹ کے لئے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار عبدل السید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کا احتساب اور جنگ کا خاتمہ ہماری ترجیح ہوگی۔امریکی ریاست نیویارک کی ویسٹ چیسٹر کاؤنٹی میں ووٹنگ مشینوں میں خرابی کے باعث اڑھائی لاکھ بیلٹ پیپرز سکین نہ ہوسکے، جس سے انتخابی عمل متاثر ہوا۔غزہ میں زخمی فلسطینیوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹر آدم حموی امریکی کانگریس کے رکن منتخب ہوگئے امریکا میں ہونے والے انتخابات میں پاکستانی نژاد امریکی امیدواروں نے مختلف ریاستوں میں حصہ لیا، جن میں سے متعدد نے کامیابی حاصل کرلی۔امریکی میڈیا کے مطابق ٹیکساس کی ریاستی اسمبلی کے ارکان سلمان بھوجانی اور سلیمان لالانی دوبارہ منتخب ہوگئے، جبکہ جارجیا میں پاکستانی نژاد امیدوار فاروق مغل نے بھی ریاستی اسمبلی کی نشست جیت لی۔ادھر سپیکر ایرانی پارلیمنٹ باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکی عوام نے جنگ کے خلاف فیصلہ دے دیا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ امریکی عوام نے ضمیر کی آواز سنی اور واضح طور پر جنگ کو مسترد کر دیا ہے، ہم بھی امریکی عوام کے اس پیغام کی حمایت کرتے ہیں۔سپیکر ایرانی پارلیمنٹ نے کہا کہ امریکی حکومت بلیک میل کرنے والوں کے مفادات کیلئے کام کرے گی تو اسے شکست ہوگی۔جبکہ چین نے کہا ہے کہ امریکی وسط مدتی انتخابات واشنگٹن کا داخلی معاملہ ہے۔
ٹرمپ ہار گئے
ایران جنگ ری پبلکنز کو لے ڈوبی ڈیمو کریٹس کو دونوں ایوانوں میں برتری ٹرمپ نے ہار مان لی تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی امریکی عوام نے جارحیت مسترد کر دی

