اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ خطے میں امن و استحکام چاہتے ہیں، تنازع فلسطین کے دو ریاستی حل پر جلد عمل درآمد ضروری ہے۔ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان کا ہفتہ وار بریفنگ میں مزید کہنا تھا کہ آر فور ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس استنبول میں منعقد ہوا، اجلاس میں فلسطین، یمن، امریکہ، اسرائیل اور ایران کے تنازع اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، پاکستان نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ یمن اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حوثی حملوں کی مذمت، جبکہ سعودی عرب اور یمن کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں، علاقائی تنازعات کے حل کیلئے مذاکرات اور سفارت کاری ضروری ہے۔ترجمان نے کہا کہ جاری سفارتی کوششوں بشمول اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم کرتے ہیں، آبنائے ہرمز سے محفوظ اور بلا رکاوٹ جہاز رانی کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے مکہ اور مدینہ کے علاقوں پر حوثی بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں، مقدس مقامات کے قریب حوثی حملے سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی ہیں، حوثی حملے اسلام کے مقدس مقامات کے تقدس اور شہریوں کی سلامتی کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہیں۔ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی اور مکہ اتحاد برائے دفاع سے وابستگی کا اعادہ کیا ہے، بیرونی جارحیت اور خطرات کے خلاف خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ کے دورہ پاکستان کی اجازت بھارتی حکومت کو دینی ہے، بھارت کی جانب سے شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کا دعوت نامہ موصول ہوا ہے شرکت کا فیصلہ قیادت ادارہ جاتی مشاورت کے بعد کرے گی۔مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد کے سیکریٹری جنرل لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود جلد ریاض میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے، ایران امریکا تنازع پر پاکستان نے ایک مخلص ثالث کی حیثیت سے سہولت کاری فراہم کی اور 47برس سے ایک دوسرے سے بات چیت نہ کرنے والے دو ممالک کو ایک چھت تلے مذاکراتی میز پر بٹھایا، پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا ۔علاقائی امن صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پورے خطے اور اس سے باہر کے ممالک کے مفاد میں ہے۔ پاکستان بابا گرونانک دیو جی کے 557ویں جنم دن تقریبات کے لئے سکھ یاتریوں کے استقبال کا منتظر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کا دعوت نامہ موصول ہوا ہے، اجلاس 20تا 22نومبر نئی دہلی میں شیڈیول ہے جس میں شرکت کا فیصلہ قیادت ادارہ جاتی مشاورت کے بعد کرے گی۔سجاد حیدر خان نے مطلع کیا کہ پاکستان کی روایتی ہتھیاروں کے کنٹرول سے متعلق قرارداد 180ووٹوں سے منظور ہوئی، پاکستانی قرارداد تحمل، توازن اور مذاکرات پر زور دیتی ہے، جس کا مقصد علاقائی تنازعات کے خطرات کم کرنا ہے، صرف دو ممالک بھارت اور اسرائیل نے قرارداد کی مخالفت کی جو کہ ان ممالک کی پالیسیوں کے بارے میں بہت کچھ بتاتی ہے ۔ان دو ممالک کے منفی ووٹ بین الاقوامی امن و استحکام سے متعلق ان کے وعدوں کی سنجیدگی پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں اور منفی ووٹنگ علاقائی عدم استحکام کے بنیادی محرک کی ذہنیت کو بھی ظاہر کرتی ہے۔
دفتر خارجہ

