راولپنڈی(خصوصی رپورٹر)میونسپل کارپوریشن راولپنڈی اور سٹی ٹریفک پولیس کی مبینہ غفلت ولاپرواہی اور عدم دلچسپی سے شہر بھر میں تجاوزات مافیا کے قبضوں اور بدترین ٹریفک جام سے راولپنڈی میں نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر عارضی و مستقل تجاوزات مافیا کے ڈیروں سے شہر کی مرکزی شاہراہوں سمیت اندرون شہر گنجان علاقوں میں بھی منٹوں کی مسافت گھنٹوں پر محیط ہوگئی تمام دن بدترین ٹریفک جام سے شہری ذہنی مریض بننے لگے جبکہ طلبا و طالبات اور ملازمت پیشہ افراد کا بروقت اپنی منزل پر پہنچنا بھی خواب بن کر رہ گیا تجاوزات اور ٹریفک جام کے ستائے شہریوں کے مطابق راجہ بازار، کمرشل مارکیٹ، خیابان سرسید، جامع مسجد روڈ، مری روڈ، راول روڈ، ٹیپو روڈ سمیت شہر بھر کی سڑکیں اور چوراہے تجاوزات مافیا اور غلط پارکنگ کی زد میں ہونے کی وجہ سے آمدورفت ناممکن ہو کر رہ گئی ہے جبکہ سٹی ٹریفک پولیس اور میونسپل کارپوریشن کی کوئی عملداری کسی جگہ نظر نہیں آتی ضلعی و اعلی پولیس افسران بھی بند کمروں تک محدود ہو کررہ گئے ہیں جس سے شہر میں تجاوزات مافیا کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے میونسپل کارپوریشن کے چیف افسر عوام سے ملنا یا شکایات سننا گوارا ہی نہیں کرتے اسی طرح ٹریفک پولیس کے تمام تر دعووں کے باوجود سکستھ روڈ سے رحمان آباد اور چاندنی چوک تک گاڑیوں کا جمعہ بازار ختم نہیں ہوسکا جمعے کے روز صبح سے ہی گاڑیوں کے ڈیلر یہاں مجموعی طور پر ہزاروں گاڑیاں پارک کردیتے ہیں جس سے تمام دن مری روڈ اور اس سے ملحقہ اندرونی سڑکوں پر بدترین ٹریفک جام معمول بن چکا ہے شہر میں ٹریفک کی سنگین صورتحال کے باوجود ٹریفک وارڈن مختلف مقامات پر ٹولیوں کی صورت میں صرف چالانوں میں مصروف نظر آتے ہیں جبکہ ٹریفک کی روانی پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی شہریوں نے کمشنر و ڈپٹی کمشنر اور سی پی او راولپنڈی سے اصلاح کا مطالبہ کیا ہے۔
