اسلا م آباد(آئی این پی )پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز کی فراہمی کے لیے غیر ملکی اور مقامی کمپنیوں کی دلچسپی بڑھنے لگی۔ ملک میں اب تک چھ سیٹلائٹ انٹرنیٹ کمپنیوں کی ایس ای سی پی میں رجسٹریشن ہو چکی۔ پاکستان اسپیس ایکٹیویٹیز ریگولیٹری بورڈ کے قیام کے بعد 4 نئی کمپنیوں نے رجسٹریشن کرائی۔ایس ای سی پی نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو آگاہ کر دیا۔ایس ای سی پی کے مطابق محض کمپنی رجسٹرڈ ہونے سے سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز کی تجارتی فراہمی کی اجازت نہیں ملتی۔ اس مقصد کے لیے پی ایس اے آر بی کا این او سی لازمی ہے۔ ایس ای سی پی کا کہنا ہے کہ اسٹارلنک، گلیکسی اسپیس اور اسپیس سیل پاکستان کے غیر ملکی ڈائریکٹرز اور شیئر ہولڈرز کی سیکیورٹی کلیئرنس وزارت داخلہ میں زیر التوا ہے جس کے باعث عمل آگے نہیں بڑھ سکا۔وزارت داخلہ کی کلیئرنس اور پی ایس اے آر بی کا این او سی ملنے کے بعد پی ٹی اے لائسنس جاری کرے گا۔ تمام ریگولیٹری تقاضے اور سیکیورٹی مراحل مکمل ہونے پر ہی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز کا آغاز ممکن ہوگا۔
